چابی سرکاری عہدیدار کے حوالے،جدوجہد جاری رکھنے کا عزم
نئی دہلی : کانگریس کے سابق صدر راہول گاندھی نے رکن پارلیمنٹ کی حیثیت سے ملا اپنا سرکاری بنگلہ پوری طرح خالی کر دیا۔ راہول گاندھی کو مودی سر نیم معاملے میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عدالت نے انھیں لوک سبھا کی رکنیت سے نااہل قرار دیا تھا۔ ان کی پارلیمانی رکنیت جانے کے بعد سرکاری بنگلہ خالی کرنے کے لیے کہا گیا تھا اور 22 اپریل کو بنگلہ خالی کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ دی گئی تاریخ کا خیال رکھتے ہوئے راہول گاندھی نے 22 اپریل کو 12 تغلق لین پر واقع اپنا سرکاری بنگلہ خالی کر دیا۔ فی الحال وہ اپنی ماں سونیا گاندھی کے ساتھ رہ رہے ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق 21 اپریل کو راہول گاندھی سرکاری بنگلہ سے اپنا سامان منتقل کرتے ہوئے دیکھے گئے تھے۔ اس بنگلے کی چابی انھوں نے سرکاری عہدیدار کے حوالے کر دی۔ اس دوران پرینکا گاندھی وڈرا بھی ان کے ساتھ دکھائی دیں۔پرینکا گاندھی نے اس موقع پر کہا کہ اس طرح کی کارروائی سے راہول گاندھی ڈریں گے نہیں اور عوامی مسائل اٹھاتے رہیں گے۔ راہول گاندھی کے ذریعہ سرکاری بنگلہ خالی کرنے پر کانگریس رکن پارلیمنٹ ششی تھرور نے ان کی تعریف کی ہے۔ ایک ٹوئٹ میں انھوں لکھا کہ راہول گاندھی نے لوک سبھا کے حکم پر تغلق لین میں واقع اپنے سرکاری بنگلے کو خالی کر دیا ہے۔ عدالت نے انھیں اپیل کے لیے 30 دن کا وقت دیا تھا۔ ایچ سی یا اے سی سی انھیں پھر سے بحال کر سکتی ہے، لیکن ان کا بنگلہ چھوڑنے کا فیصلہ اصولوں کے تئیں ان کے احترام کو ظاہر کرتا ہے۔‘‘واضح رہے کہ راہول گاندھی کو جب سرکاری بنگلہ خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو انھوں نے لوک سبھا سکریٹریٹ کو ایک خط لکھا تھا جس میں بنگلہ خالی کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ خط میں کہا گیا تھا کہ ’’پچھلے چار بار سے لوک سبھا کے منتخب رکن کے طور پر یہاں گزارے اپنے وقت کی اچھی یادوں کے لیے احسان مند ہوں۔ اپنے حقوق کے تئیں جانبداری کے بغیر میں یقینا آپ کے لکھے خط پر عمل کروں گا۔‘