ہر سال نصف سے زیادہ نشستیں مخلوعہ رہتی ہیں ، نئے کورسیس متعارف کرانے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 15 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : ریاست میں ڈگری کالجس کی نشستوں کے لیے عجیب و غریب صورتحال پیدا ہوگئی ہے ۔ طلبہ سے زیادہ نشستوں کی تعداد پائی جاتی ہے ۔ جس سے ہر سال نصف نشستوں پر داخلے نہیں ہورہے ہیں ۔ چند کالجس میں تو کورسیس چلانے کے لیے ضرورت کے مطابق طلبہ کی تعداد بھی دستیاب نہیں ہورہی ہے جس کے پیش نظر طلبہ کو راغب کرنے کے لیے کالجس کی جانب سے نئے کورسیس متعارف کرانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جاریہ سال 3,80,920 طلبہ نے انٹر میڈیٹ سیکنڈ ایر کا امتحان تحریر کیا ہے جس میں 67 فیصد یعنی 2,56,241 طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے ۔ ان کے علاوہ ووکیشنل کورسیس کے مزید 28 ہزار طلبہ کامیاب ہوئے ہیں ۔ دوسری جانب ریاست میں 4 لاکھ سے زیادہ ڈگری نشستیں ہیں ۔ جن کی تعداد گھٹاتے ہوئے 3.86 لاکھ تک محدود کیا گیا ہے ۔ باوجود اس کے ڈگری کی نشستیں انٹر میں کامیاب ہونے والے طلبہ سے زیادہ پائی جاتی ہے ۔ عام طور پر انٹر میڈیٹ سال دوم کی تعلیم مکمل کرنے والے طلبہ میں چند طلبہ جے ای ای کے ذریعہ آئی آئی ٹی ، این آئی ٹیز انجینئرنگ کورسیس کا انتخاب کرتے ہیں ۔ ایمسیٹ کے ذریعہ انجینئرنگ ، اگریکلچر ، بی ایس سی کورسیس کے علاوہ نیٹ کے ذریعہ میڈیکل ( ایم بی بی ایس ) جیسے کورسیس میں داخلہ لیتے ہیں اس طرح تقریبا ایک لاکھ طلبہ تک ان کورسیس میں داخلہ لیتے ہیں ماباقی طلبہ کی اکثریت ڈگری کورسیس میں داخلہ لیتی ہے ۔ جس سے ڈگری کورسیس کی نشستیں طلبہ سے زیادہ پائی جاتی ہیں ۔ ڈگری کورسیس میں داخلوں کے لیے دوست شیڈول جاری کیا گیا ہے ۔ ڈگری کورسیس میں طلبہ کو متاثر کرنے کے لیے نئے کورسیس متعارف کرائے گئے ہیں ۔ جاریہ سال بی ایس سی کمپیوٹر سائنس کے نام سے چار سالہ آنر کورس متعارف کرایا گیا ہے ۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ کورس تکمیل کرنے پر تقریبا انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے برابر ہوگا ۔ اس طرح انجینئرنگ میں داخلہ لینے کے خواہش مند طلبہ اس کورس میں داخلہ لینے کا اندازہ لگایا جارہا ہے ۔ واضح رہے کہ ڈگری کورس میں ایک نئے سسٹم کو متعارف کرایا گیا ہے ۔ ایک کورس میں داخلہ لینے کے بعد دوسرے کورسیس میں چند سبجکٹس کی تعلیم حاصل کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔ دوسری جانب ڈاٹا سائنس کورسیس کا بھی آغاز کیا گیا ہے ۔ اس طرح ریگولر کورسیس کے ساتھ نئے کورسیس کے ذریعہ ڈگری تعلیم کی طرف طلبہ کی دلچسپی بڑھانے کی کوشش کی جارہی ہے ۔۔ن