تلنگانہ کے تعلیمی کیلنڈر میں ’’قومی یوم تعلیم‘‘ فراموش ، حکومت فوری نظرثانی کرے
حیدرآباد۔ 12جون (سیاست نیوز) اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے نئے تعلیمی سال 2025-26ء سے جماعت اول تا دہم تعلیمی کیلنڈر جاری کردیا ہے۔ اس کیلنڈر میں کئی اہم پروگرامس جیسے تلنگانہ کا یوم تاسیس، اسپورٹس ڈے، یوم اساتذہ، ہندی دیوس، یوم اطفال، قومی یوم ریاضی، عالمی یوم مادری زبان ، قومی یوم سائنس وغیرہ کو شامل کیا گیا ہے، لیکن تشویش اس بات پر ہے کہ 11 نومبر جوکہ قومی یوم تعلیم کے طور پر منایا جاتا ہے جو مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کی یوم پیدائش کی مناسبت سے ملک بھر میں برسہا برس سے منایا جاتا ہے، اس کو ریاست کے تعلیمی کیلنڈر میں شامل نہیں کیا گیا۔ حکومت کا یہ فیصلہ ایک عظیم مجاہد آزادی اور ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی خدمات کے ساتھ ناانصافی ہے۔ گزشتہ سال بھی اسی طرح قومی یوم تعلیم کو نظرانداز کردیا گیا تھا، حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں محکمہ تعلیم کو کوئی احکامات جاری نہیں کئے گئے تھے۔ ٹیچر تنظیموں کی نمائندگی پر برائے نام منایا گیا تھا، لیکن اس کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی فنڈس جاری نہیں کئے گئے تھے۔ ریاست میں بی جے پی کی نہیں کانگریس کی حکومت ہے اور مولانا ابوالکلام آزاد آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر بھی تھے اور ساتھ ہی آزاد ہند کے بعد تشکیل دی گئی کانگریس کی زیرقیادت حکومت میں پہلے مرکزی وزیر تعلیم بھی تھے۔ کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات میں مائناریٹی ڈیکلریشن جاری کرتے ہوئے ’’مولانا ابوالکلام آزاد تحفہ تعلیم اسکیم‘‘ کا اعلان کیا تھا جس میں طلبہ کیلئے اسکالرشپس کے علاوہ دیگر وعدے بھی شامل تھے۔ ایسے عظیم قائد کے نام سے موسوم قومی یوم تعلیم کو نظرانداز کردینا بدبختانہ ہے۔ حکومت فوری اپنے جاری کردہ تعلیمی کیلنڈر پر نظرثانی کرے اور قومی یوم تعلیم کو اس کیلنڈر میں شامل کرتے ہوئے ریاست میں بڑے پیمانے پر یوم تعلیم منانے کے احکامات جاری کرے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی کی جانب سے مجاہدین آزادی اور مختلف شخصیتوں جنہوں نے ملک کی تعمیر اور تلنگانہ کی تحریک میں نمایاں رول ادا کیا ہے، ان کے ناموں سے مختلف اسکیمات کا اعلان کیا جارہا ہے، یونیورسٹیز کے نام ان کے نام سے موسوم کئے جارہے ہیں، بڑے بڑے ایوارڈس کا اعلان کیا جارہا ہے یا ان کی یادگار کے طور پر بڑے بڑے بھونس تعمیر کئے جارہے ہیں مگر ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی یوم پیدائش کو قومی یوم تعلیم کے طور پر منانے کے معاملے میں غفلت برتی جارہی ہے جس سے مسلمانوں میں تشویش اور بے چینی کی کیفیت پائی جارہی ہے۔2