زرعی قوانین کو ایک تا دیڑھ سال روکنے حکومتی پیشکش ۔ کسان غور کریں گے

,

   

نئی دہلی : قومی دارالحکومت کی سرحدوں پر ہزاروں کسانوں کی جانب سے لگ بھگ دو ماہ طویل احتجاج کو ختم کرنے کیلئے اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کرتے ہوئے مرکزی حکومت نے چہارشنبہ کو تجویز پیش کی کہ تینوں متنازعہ زرعی قوانین کو ایک تا دیڑھ سال معطل رکھیں گے اور کاشتکار برادری کے مفاد میں کوئی دوستانہ حل تلاش کرنے کیلئے مشترکہ کمیٹی تشکیل دیں گے۔ تین مرکزی وزراء کے ساتھ جاری مذاکرات کے اپنے دسویں دور میں دونوں فریقوں نے جمعہ کو دوبارہ میٹنگ منعقد کرنے کا فیصلہ کیا جبکہ کسان یونین کے قائدین جمعرات کو داخلی طور پر مشاورت کرتے ہوئے حکومت کی نئی تجویز پر فیصلہ کریں گے۔ تقریباً پانچ گھنٹے طویل میٹنگ کے بعد جس میں دو وقفے لئے گئے ، میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے مرکزی وزیرزارعت نریندر سنگھ تومر نے کہا کہ حکومت نے تینوں قوانین پر عمل آوری کو ایک تا دیڑھ سال معطل رکھنے کی تجویز پیش کی ہے اور اس مدت کے دوران حکومت اور کسانوں کی طرف سے نمائندگان کی مشترکہ کمیٹی اپنی بات چیت جاری رکھ سکتی ہے۔ نیز دہلی کی سرحدوں پر نہایت سرد موسم میں احتجاج کرنے والے اپنے گھروں کو واپس ہوسکتے ہیں۔ تینوں قوانین پر عمل آوری پہلے ہی سپریم کورٹ نے تااحکام ثانی روک رکھی ہے اور ماہرین کی کمیٹی تشکیل دی جاچکی ہے تاکہ تعطل کو ختم کیا جاسکے۔ اس پینل کو فاضل عدالت نے تمام حاملین مفادات سے مشاورت کے بعد اندرون دو ماہ اپنے رپورٹ پیش کرنے کیلئے کہا ہے۔ اس کمیٹی نے اپنی پہلی میٹنگ منگل کو منعقد کی اور کسان گروپوں و دیگر کے ساتھ مشاورتیں جمعرات کو شروع کرے گی۔