بیتول۔ 13 ستمبر (یو این آئی) مدھیہ پردیش کے ضلع بیتول میں میڑھا ڈیم کے لیے حاصل کی گئی زمین کے خصوصی پیکیج کے معاوضے نہ ملنے پر مشتعل کسانوں نے سماجی کارکن نکھل وشوکرما کی قیادت میں کلکٹر اور پولیس سپرنٹنڈنٹ کو میمورنڈم پیش کیا۔ کسانوں نے خبردار کیا کہ اگر دس دن کے اندر رقم ان کے کھاتوں میں جمع نہ کی گئی تو وہ سخت احتجاج کریں گے ، ڈیم کا کام روکیں گے اور تاپتی ندی کے کنارے بھوک ہڑتال اور جل ستیہ گرہ کریں گے ۔ کسانوں نے میمورنڈم میں کہا کہ حکومت نے ایک ہیکٹر کے لیے 10 لاکھ روپے کے خصوصی پیکیج دینے کا خط جاری کیا تھا، لیکن چار سال سے صرف یقین دہانیاں ہی مل رہی ہیں۔ میڑھا ڈیم کا کام 80 فیصد سے زیادہ مکمل ہو چکا ہے ، مگر متاثرہ کسانوں کو اب تک معاوضہ نہیں ملا۔ ساتھ ہی انہوں نے مطالبہ کیا کہ مکانات، جھونپڑی اور سامان منتقل کرنے کے لیے 50 ہزار روپے ، 18 سال سے زیادہ عمر کے نوجوانوں کے لیے 1.36 لاکھ روپے اور پہلے کیے گئے 5 لاکھ روپے دینے کے وعدے کو بھی پورا کیا جائے ۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ اگر ان کے مطالبات پورے نہ کئے گئے تو وہ مجبوراً ڈیم کا کام روک دیں گے اور تب تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک تمام متاثرہ کسانوں کو مکمل رقم ان کے بینک کھاتوں میں نہیں مل جاتی۔