حیدرآباد۔ 6 اکتوبر (سیاست نیوز) سائبر دھوکہ دہی معاملہ میں شہر حیدرآباد کمشنر سی وی آنند نے سنجیدگی کے ساتھ اقدامات کرتے ہوئے 6 خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر کرناٹک، مہاراشٹرا اور راجستھان کو روانہ کی اور ان ٹیموں نے کارروائی کرتے ہوئے 18 افراد کو گرفتار کرلیا جس میں تین ماسٹر مائینڈ شامل ہیں۔ ملک بھر میں 319 اور تلنگانہ میں 45 مقدمات ان پر درج ہیں جس میں 10 اہم مقدمات بھی شامل ہیں۔ سرمایہ کاری کے 6، ڈیجیٹل دھوکہ کا ایک، جنسی زیادتی کا ایک، او ٹی پی دھوکہ کا ایک اور ایک انشورنس دھوکہ کا معاملہ بھی شامل ہیں۔ سی وی آنند نے بتایا کہ دھوکہ دہی معاملہ میں 6,94,09,661 روپے کا دھوکہ کیا گیا۔ ان کے قبضہ سے 5 لاکھ روپے نقد رقم، 26 موبائیل فونس، 16 اے ٹی ایم کارڈس، 7 پاس بکس، 11 چیک بکس، 10 سم کارڈس، 2 لیاپ ٹاپ، دو ڈسک ٹاپ، ایک ہارڈ ڈسک، ایک ربر اسٹامپ کو ضبط کرلیا گیا، اس کے علاوہ ان کے بینک اکاؤنٹس میں موجود 1,61,25,876 روپیوں کو منجمد کردیا گیا ہے۔ حیدرآباد کمشنر نے عوام سے اپیل کی کہ وہ آن لائن فون کالس آنے پر بھروسہ نہ کریں اور نہ ہی کبھی او ٹی پی نمبر کسی بھی شخص کو بتایا جائے۔ دھوکہ باز روز نئے نئے طریقوں کے ذریعہ عوام کو اپنے جال میں پھنسا کر رقم حاصل کرتا ہے اور عوام ان کے جھانسہ میں آکر کثیر رقم آن لائن منتقل کرتی ہیں۔ انہوں نے اپیل کی کہ آن لائن کے ذریعہ کوئی انہیں دھوکہ دینے کی کوشش کرتا ہے تو فوراً ٹول فری نمبر 1930 پر اطلاع کریں۔ ش