سال 2020 میں ہوئے دہشت گردی کے واقعات

   


واشنگٹن: رواں سال پوری دنیا کورونا کی زد میں رہی لیکن پرتشدد حملوں کے ذریعے دہشت پھیلانے کا عمل بدستور جاری رہا۔ ریاستی اور غیر ریاستی عناصر کی جانب سے دہشت پھیلانے کی تاریخ 350 قبل مسیح سے بھی ملتی ہے جس کے بارے میں یونانی فلسفی اور مورخ زینوفون نے دشمن کے خلاف نفسیاتی جنگ کے بارے میں بہت کچھ لکھا، 42 قبل مسیح میں رومن شہنشاہوں ٹائمزیوس اور کیلیگولا نے مخالفت کا سر کچلنے کے لیے پابندیاں لگائیں، املاک کی ضبطی اور پھانسی کو بطور ہتھیار استعمال کیا۔ ریاستی اور غیر ریاستی دہشت گردی مختلف روپ میں سفر کرتی ہوئی جب 20 صدی میں داخل ہوئی تو ٹیکنالوجی اور صنعتی ترقی نے ایسے مزید خوفناک بنادیا، خودکار ہتھیاروں اور ریمورٹ کنٹرول دھماکا خیز مواد کی بدولت (باالفاظ دیگر) دہشت پھیلانا آسان ہوگیا۔ دنیا کے ہر ملک اور گروہ کے نزدیک دہشت گردی کی تعریف مختلف ہوسکتی ہے لیکن جو چیزیں ان میں قدرے مشترک ہیں وہ یہ کہ دہشت گردی دراصل تشدد پرمبنی ایک منصوبہ بندی ہے جس کا مقصد خوف کا ماحول پیدا کرنا ہے تاکہ خاص سیاسی مقاصد کا حصول ممکن ہو، بعض صورتوں میں ریاست کسی ایک قتل کے واقعے کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں گردانتی ہیں۔ رواں سال پوری دنیا کورونا کی زد میں رہی، معمولات زندگی متاثر ہوئے اور کاروباری مصروفیات معطل رہی لیکن پرتشدد حملوں کے ذریعے دہشت پھیلانے کا عمل بدستور جاری رہا۔ نائیجیریا میں 9 جنوری کو موٹرسائیکلوں اور کاروں میں سوار عسکریت پسندوں نے ایک فوجی اڈے پر حملہ کیا تھا۔سرحدی علاقے تلبوری ریجن میں واقع اس فوجی اڈے پر حملے کی ذمہ داری 13 جنوری کو دہشت گرد تنظیم داعش نے قبول کی جس میں تقریباً 100 نائیجیرین فوجی ہلاک ہوئے تھے۔ کوئٹہ میں خود کش حملہ :10 جنوری کو پاکستان کے شہر کوئٹہ کے علاقے سیٹلائٹ ٹاؤن کی مسجد و مدرسہ میں دھماکے سے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) اور مسجد امام سمیت 15 افراد جاں بحق اور 19 زخمی ہوگئے تھے۔ یمن کی مسجد پر ڈرون حملہ: 18 جنوری کو فوجی تربیتی کیمپ کی ایک مسجد کو شام کی نماز کے دوران ڈرون اور میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا تھا جب درجنوں افراد نماز کی ادائیگی میں مصروف تھے۔اس حملے میں 111 یمنی فوجی اور 5 شہری جاں بحق اور 148 زخمی ہوگئے تھے۔حملے کا الزام حوثیوں پر عائد کیا گیا تھا۔ لندن میں چاقو سے حملہ2 فروری کو لندن کے جنوبی علاقے اسٹریتھم میں ایک شخص نے 3 افراد پر چاقو سے حملہ کیا تھا جس میں ایک شخص شدید زخمی ہوگیا تھا۔20 سالہ نوجوان سودیش امن نے جعلی خود کش جیکٹ پہنی ہوئی تھی جسے لندن کی مصروف شاہراہ ساؤتھ اسٹریٹ پر 3 افراد کو چاقو سے زخمی کرنے پر پولیس نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا۔اس طرح آسٹریلیا، فلپائن اور افغانستان بھی ایسے ممالک رہے جو 2020ء کے دوران دہشت گرد حملوں کا شکار رہے۔