سرکاری اسکولس کے بہتر مظاہرہ کیلئے کمزور طلبہ کو ٹی سی کی اجرائی

   

کلکٹر کے انتباہ کے بعد بچاؤ کیلئے ہیڈماسٹر کا اقدام ، اوپن اسکول سے امتحان لکھنے کا مشورہ
حیدرآباد۔ 26 فروری (سیاست نیوز) حکومت اور عہدیداروں کی جانب سے سرکاری اسکولس میں 10 ویں جماعت کے نتائج کو صد فیصد بنانے کا اسکولس پر دباؤ ڈالا جارہا ہے چنانچہ بعض سرکاری اسکول ہیڈماسٹرس بہتر تعلیمی مظاہرہ نہ کرنے والے طلبہ کو ٹی سی حوالے کرتے ہوئے انہیں اوپن اسکول سے امتحان لکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں تاکہ اسکولس کے نتائج کو حکومت کے سامنے بہتر بنایا جاسکے۔ حیدرآباد کے بعض سرکاری اسکولس میں اس طرح کے واقعات منظر عام پر آئے ہیں۔ ضلع رنگاریڈی کے ابراہیم پٹنم میں واقع اوپن اسکول میں حیدرآباد کے 4 طلباء کو داخلہ دلایا گیا۔ اس مسئلہ پر جب کلکٹر حیدرآباد اَنودیپ درشیٹی سے دریافت کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ اگر اس طرح کے واقعات پیش آرہے ہیں تو وہ تحقیقات کراتے ہوئے قصورواروں کے خلاف کارروائی کریں گے۔ نامپلی منڈل کے ایک سرکاری اسکول میں بیگم بازار، گن فاؤنڈری کے 4 بچوں کو جنہوں نے نویں جماعت تک تعلیم حاصل کی تھی، دسویں جماعت میں نامینل اسکولس رولس کے مطابق اسکول ایجوکیشن ڈائریکٹر کو رپورٹ روانہ کرنے سے قبل ان بچوں کے والدین کو طلب کرتے ہوئے یہ بتایا گیا کہ اگر آپ کے بچے یہیں پر پڑھتے رہیں تو فیل ہوجائیں گے، انہیں مشورہ دیا گیا کہ اِبراہیم پٹنم کے اوپن اسکول سے 10 جماعت کا امتحان لکھا جائے۔ اس طرح کا ایک اور واقعہ شیخ پیٹ منڈل میں ایک اسکول میں وہاں کے ہیڈماسٹر نے 9 طلبہ کو ٹی سی دے کر روانہ کردیا۔ ضلع حیدرآباد دسویں جماعت کے نتائج میں آخری دس پوزیشنوں میں 5 ویں مقام پر رہا ہے۔ کلکٹر کی جانب سے شہر کے تمام سرکاری اسکولس کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ جاریہ سال پہلے پانچ مقامات پر اپنے اسکول کا نام درج کرائیں۔ کلکٹر اَنودیپ نے اسکول ہیڈماسٹرس کو انتباہ دیا تھا کہ اگر طلبہ فیل ہوجاتے ہیں تو اس کی ذمہ داری متعلقہ ہیڈماسٹر پر عائد ہوگی جس کے بعد ہیڈماسٹر نے بہتر تعلیمی مظاہرہ نہ کرنے والے طلبہ کو انہیں ٹی سی دے رہے ہیں۔ 2