سعودی بین البراعظمی میزائیل پروگرام کی جھلکیاں

   

دور افتادہ مقام پر میزائیل کی تیاری پر امریکہ سے مزید کشیدگی کا اندیشہ

دوبئی 26 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) ایک فوجی اڈہ جو سعودی عرب کے اندرونی علاقہ میں واقع ہے، ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بین البراعظمی میزائیل کی امکانی تیاری، جانچ اور سیٹلائیٹ اور ماہرین کی جانچ کا مرکز بن گیا ہے۔ ہتھیاروں کے پروگرام کی نوعیت کی شہادت ایک عرصہ سے سعودی عرب کے کٹر حریف ایران کی تنقید کا نشانہ بنی ہوئی ہے جبکہ سعودی عرب کا ادعا ہے کہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار موجود ہیں۔ علاوہ ازیں کسی بھی ایسے پروگرام کے بارے میں سعودی عرب کے طاقتور ولیعہد شہزادہ محمد بن سلمان کے تبصرے اہمیت اختیار کرگئے ہیں۔ اُنھوں نے گزشتہ سال کہا تھا کہ مملکت نیوکلیر ہتھیار تیار کرنے سے نہیں ہچکچائے گی بشرطیکہ ایران کے پاس نیوکلیر ہتھیار موجود ہوں۔ بین البراعظمی میزائیلس نیوکلیر وارہیڈس منتقل کرسکتے ہیں اور ہزاروں کیلو میٹر کے فاصلے پر اپنے حدف کو نشانہ بناسکتے ہیں۔ ریاض اور سعودی عرب کے سفارت خانہ برائے امریکہ نے اِس تبصرے کے بارے میں اُن کے ردعمل کی درخواستوں پر کوئی توجہ نہیں دی۔ اگر سعودی عرب کے قبضہ میں نیوکلیر ہتھیار موجود ہوں تو امریکہ اور سعودی عرب کے دیرینہ تعلقات میں مزید کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے۔ سعودی عرب، امریکہ کا دیرینہ صیانتی شراکت دار ہے۔ ایک ایسے وقت جبکہ دونوں ممالک کے تعلقات پہلے ہی سے واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار جمال خشوگی کے قتل اور سعودی زیرقیادت فضائی حملوں کے نتیجہ میں یمن میں عوام کے قتل عام کی وجہ سے کشیدہ ہوچکے ہیں۔