سعودی عرب میں طلاق رجسٹرڈ کروانا اور خواتین کو آگا ہ کرنا لازمی 

ریاض : سعودی عرب میں طلاق کو رجسٹرڈ کروانا اور خواتین کو طلاق رجسٹرڈ ہونے سے آگاہ کرنا لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارہ کے مطابق سعودی عرب میں خواتن کو بغیر اطلاع دیئے یا محض زبانی طلاق دینے کی شرح میں اضافہ کے پیش نظر قوانین میں ترمیم کی گئی ہے جس کیلئے مراسلہ بھی جاری کردیاگیا ہے۔ سرکاری مراسلہ میں زبانی طلاق کے بجائے اسے عدالت سے رجسٹرڈ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے فیملی کورٹ کو بھی اس بات پر پابند کیاگیا ہے کہ عدالت طلاق کی تصدیق سے خواتین کوموبائل فون پر مسیج بھیج کر آگاہ کریں ۔ علاوہ ازیں طلاق سے متعلق تفصیلات وزارت انصاف کی ویب سائٹ پر بھی دستیاب ہوں گی ۔

جبکہ فیملی کورٹ خواتین کو ازدواجی حیثیت میں تبدیلی جیسے مطلقہ یابیوہ ہونے سے بھی آگاہ کرنے کی پابند ہوگی ۔سعودی خاتون وکلاء کی تنظیم کی سربراہ نسرین الغامدی کا کہنا ہے کہ طلاق سے متعلق قوانین میں تبدیلی سے خواتین طلاق کے بعد مالی فوائد حاصل کرپائیں گی جس سے بچنے کیلئے زبانی طلاق دی جاتی تھی او رطلاق دینے کے بعد خواتین کو آگاہ نہیں کیا جاتا تھا ۔ نسرین غامدی نے کہا کہ نئے قانون کے تحت طلاق کے بعد خواتین کے نان نفقہ کے حق کو یقینی بنایاجائے گا ۔ ایک اور خاتون سمیہ الہندی نے بتایاکہ اکثر خواتین نے ان کے علم میں لائے بغیر طلاق دیئے جانے پر عدالت میں اپیل دائر کی ہیں ۔ طلاق سے متعلق نئے حکم نامہ کو ولی عہد شاہ سلمان کے معاشی و سماجی اصلاحات سے جوڑا جارہا ہے ۔

ولی عہد کے انقلابی پروگرام کے تحت خواتین کو ڈرائیونگ او رملازمتوں سمیت چند ایسے اختیارات دئے گئے ہیں جو اس سے قبل سعودی عرب میں ممنوع تھے ۔ شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے نئے قانون کے تحت مملکت میں فلموں کی نمائش اور سنیما گھر کھولے گئے ہیں اور سعودی کی پہلی خاتون فلم اداکارہ بھی سامنے آئی ہیں۔ او رسعودی عرب میں پہلی بار ایک خاتون صحافی نے کسی مرد صحافی کے ساتھ ٹی وی پر مشترکہ طور پر خبریں پڑھنے کی اجازت دی ہے۔

TOPPOPULARRECENT