سناتن دھرم کے تئیں نفرت کا سامان راہول کی ’محبت کی دکان‘ میں برائے فروخت

   

ٹاملناڈو کے وزیراعلیٰ اسٹالن کے فرزند سناتن دھرم کو نقصان پہنچا رہے ہیں : بی جے پی صدر نڈا

چترکٹ (ستنا): بھارتیہ جنتا پارٹی کے صدر جے پی نڈا نے آج تمل ناڈو کے وزیر اعلی ایم کے اسٹالن کے بیٹے ادے نیدھی اسٹالن کے سناتن دھرم پر دیے گئے مبینہ بیان پر اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ‘انڈیا’ پر حملہ کرتے ہوئے کہا کہ سناتن دھرم کے تئیں نفرت کا سامان راہول گاندھی کی ‘محبت کی دکان’ پر کیسے بک رہا ہے ۔ نڈا بی جے پی کی جن آشیرواد یاترا کو جھنڈی دکھانے کے لیے مدھیہ پردیش کے ستنا ضلع کے چترکٹ آئے تھے ۔ اس دوران انہوں نے اپنے خطاب میں اپوزیشن کے تمام اتحاد کو آڑے ہاتھوں لیا۔ تقریب میں ریاست کے وزیر اعلیٰ شیوراج سنگھ چوہان، ریاستی یونٹ کے صدر وشنودت شرما، ریاستی الیکشن مینجمنٹ کمیٹی کے کنوینر اور مرکزی وزراء نریندر سنگھ تومر، جیوترادتیہ سندھیا، فگن سنگھ کلستے اور پارٹی کے کئی سینئر لیڈر اور ریاستی حکومت کے وزراء موجود تھے ۔بی جے پی کے صدر نے کہا کہ جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں این ڈی اے اتحاد ہندوستان کو ترقی یافتہ بنا رہا ہے ، وہیں خاندانی اتحاد انڈیا ‘گھمنڈیا الائنس’ کے سب سے بڑے رکن ڈی ایم کے لیڈر اور تمل ناڈو کے وزیر اعلی اسٹالن کے بیٹے ادے ندھی اسٹالن ہماری مذہبی رسومات اور ثقافت کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ادے ندھی اسٹالن نے سناتن دھرم کو ختم کرنے کا اعلان کیا ہے ۔انہوں نے وہاں موجود لوگوں سے پوچھا کہ کیا ایسے ہندو مذہب پر اس طرح حملہ کرنے والے لوگوں کو رہنے دینے کا حق ہے ؟ ادے ندھی اسٹالن نے سناتن دھرم کو جڑوں سے ختم کرنے کی بات کی ہے ۔ وزیر اعلیٰ کے بیٹے نے مثال دی ہے کہ جس طرح مچھر، ملیریا، ڈینگی اور کورونا کا خاتمہ کرتے ہیں، اسی طرح سناتن دھرم کو ختم کر دو۔اسی سلسلے میں مسٹر نڈا نے اپوزیشن اتحاد پر سوال اٹھایا کہ ادے ندھی اسٹالن کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب ممبئی میں اس اتحاد کی حکمت عملی تیار کی جا رہی تھی۔ کیا یہ حکمت عملی تیار کی گئی ہے ؟ کیا یہ اتحاد آنے والے انتخابات میں سناتن دھرم کو ختم کرنے کا مسئلہ لے کر عوام میں جانے والا ہے ؟انہوں نے کانگریس لیڈر مسٹر گاندھی سے بھی سوال کیا کہ ان کی ‘محبت کی دُکان’ میں ہندو مذہب اور سناتن دھرم کے تئیں نفرت کیسے فروخت ہورہی ہے ۔ادے ندھی اسٹالن نے کل چنئی میں منعقدہ ایک کانفرنس میں سناتن دھرم پر قابل اعتراض بیان دیا تھا۔ تب سے اس بیان کی بڑے پیمانے پر مخالفت شروع ہو گئی ہے ۔