ممبئی : کنگنا راناوت کو Y زمرے کی سکیورٹی فراہم کئے جانے کے بعد ملک کے مختلف گوشوں سے اعتراضات کئے جارہے ہیں۔ ایک تو کنگنا نے خود وطن مخالف بیان دیتے ہوئے ملک کے 135 کروڑ عوام کے جذبات کو مجروح کیا۔ ممبئی میں ایسا کیا ہوگیا کہ کنگنا نے اُسے مقبوضہ کشمیر سے تعبیر کردیا جہاں قتل و غارت گری عام بات ہے۔ میڈیا بھی اِس وقت ملک کے اہم مسائل کو چھوڑ کر سوشانت سنگھ راجپوت قتل اور کنگنا راناوت میں اُلجھی ہوئی ہے جیسے کہ یہ کوئی قومی مسائل ہوں۔ آل انڈیا پیپلز کنسرن کے صدر مہیش جگتاپ نے کہاکہ اس کوویڈ ۔ 19 کے خاتمہ اور ملک کی معیشت کو دوبارہ معمول پر لانے کو اہمیت اور اوّلیت دیئے جانے کی ضرورت ہے لیکن ہو یہ رہا ہے کہ چور جب کوئی بیل چُرانے کے لئے آتے ہیں تو اُس کے گلے کی گھنٹی اُتار کر اپنے ساتھی کو تھما دیتے ہیں اور وہ ساتھی گھنٹی کو لے کر بھاگتا ہے اور بیل کا مالک سمجھتا ہے کہ بیل کے بھاگنے سے گھنٹی بج رہی ہے جبکہ دیگر چور بیل کو دوسرے راستے سے صاف اُڑالے جاتے ہیں اور بیل مالک گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگتا ہی رہ جاتا ہے۔ آج پورے ملک میں لوگ اِسی گھنٹی کی آواز کے پیچھے بھاگ رہے ہیں جبکہ اصل مسائل کو بی جے پی حکومت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔