سوشیل میڈیا کے ذریعہ غیر ذمہ دارانہ پوسٹ پر قانونی کارروائی

   

برقی کمپنیوں کو نقصان کی پابجائی بھی ممکن ، سوشیل میڈیا کی پوسٹنگ پر سی ایم آر ٹکسٹائیل اینڈ جیویلرس کی وضاحت
حیدرآباد۔10۔اکٹوبر۔(سیاست نیوز) سوشل میڈیا کے ذریعہ غیر ذمہ دارانہ پوسٹ قانونی کاروائی کا ذریعہ بن سکتی ہیں اور غیر ذمہ دارانہ پوسٹ کی تشہیر کے نتیجہ میں بڑی بڑی کمپنیوں کو ہونے والے نقصانات کی پابجائی کی نوبت بھی آسکتی ہے۔گذشتہ دنوں سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمس پر سی ایم آر ٹیکسٹائیلس اینڈ جویلرس کی جانب سے لگائے گئے ہورڈنگ کے نام پر سوشل میڈیا پر گشت کرنے والی ایک پوسٹ پر کمپنی کی جانب سے قانونی چارہ جوئی کا انتباہ دیتے ہوئے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ فرقہ وارانہ تفریق و کشیدگی پھیلانے والے کسی بھی ہورڈنگ کا ان کی کمپنی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے بیشتر تمام پلیٹ فارمس پر سی ایم آر ٹیکسٹائیلس و جویلرس کے ہورڈنگ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے ایک تصویر وائرل کی گئی جس میں غیر مسلم لڑکی اور مسلم لڑکے کی تصویر شائع کرتے ہوئے یہ دعویٰ کیا گیا تھا اس طرح کے جوڑوں کو سی ایم آر کی جانب سے 10تا50 فیصد رعایت دی جائے گی ۔ اس ہورڈنگ کی تصویر کو ہندوتوا وادی تنظیموں اور شخصیات کی جانب سے بھی خوب وائرل کرتے ہوئے سی ایم آر کو بدنام کیاگیا جس پر سی ایم آر نے آج ملک کے سرکردہ اخبارات میں اپنے قانونی مشیر کے ذریعہ نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہورڈنگ کو سی ایم آر سے جوڑتے ہوئے وائرل کرنے اور پوسٹ کرنے والوں کے خلاف سخت کاروائی کی جائے گی اور انہیں قانونی چارہ جوئی کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ سوشل میڈیا پر غیر ذمہ دارانہ پوسٹس کے ذریعہ اہم شخصیات کے متعلق بدگمانیاں پیدا کرنا اور سرکردہ تجارتی اداروں کو بدنام کرتے ہوئے انہیں ہراساں کرنا معمول بنتا جا رہاہے جبکہ سائبر کرائم میں اس طرح کی حرکتوں کے خلاف شکایات اور کاروائی کی گنجائش موجود ہے لیکن اس کے باوجود نوجوانوں کی جانب سے اس طرح کی حرکتیں عام ہوتی جار ہی ہیں۔سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر موجود نوجوانوں کو اپنے سوشل میڈیا کے استعمال میں محتاط رہتے ہوئے اس کا استعمال کرنا چاہئے کیونکہ سوشل میڈیا کے استعمال اور اس پر کی جانے والی پوسٹس نہ صرف ان کی شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں بلکہ وہ انہیں مشکلات میں مبتلاء کرنے کا سبب بھی بن سکتی ہیں۔3