سوڈان کا قیام امن کیلئے کوشش کرنے ٹرمپ سے اظہار تشکر

   

جنگ جاری رکھنے کا عزم ، وزیر دفاع حسن کبرون کا سرکاری ٹیلی ویژن پر خطاب

خرطوم، 5 نومبر (یو این آئی) سوڈان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ ملک کی فوج نیم فوجی دستے ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) کے خلاف لڑائی جاری رکھے گی، یہ بیان ملک کی سلامتی و دفاعی کونسل نے جنگ بندی سے متعلق امریکی تجویز پر غور کے لیے اجلاس کے بعد سامنے آیا ہے ۔ ‘اے ایف پی’ کی رپورٹ کے مطابق وزیرِ دفاع حسن کبرون نے سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے خطاب میں کہا کہ ہم امن کے حصول کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں اور تجاویز کا شکریہ ادا کرتے ہیں، سوڈانی عوام کی جنگ کی تیاری جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگ کی ہماری تیاری ایک جائز قومی حق ہے ، یہ بیان خرطوم میں سلامتی و دفاعی کونسل کے اجلاس کے بعد دیا گیا، تاہم امریکی جنگ بندی کی تجویز کی تفصیلات عام نہیں کی گئیں۔ دو سال سے جاری جنگ میں دسیوں ہزاروں افراد ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہو چکے ہیں، اور حالیہ دنوں میں لڑائی سوڈان کے نئے علاقوں تک پھیل گئی ہے ، جس سے ایک اور بڑے انسانی المیے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔ افریقہ اور مشرقِ وسطیٰ کے دیگر تنازعات میں ثالثی کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں امریکی انتظامیہ اب سوڈان میں جنگ بندی کے لیے دباؤ ڈال رہی ہے ۔ فوج کے حامی حکام نے اس سے قبل ایک ایسی جنگ بندی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت نہ تو وہ خود اور نہ ہی ان کے مخالف نیم فوجی گروہ، دونوں ہی، عبوری سیاسی عمل میں شامل ہو سکتے تھے ۔ تازہ ترین مذاکرات زمینی صورتحال میں بگاڑ کے بعد ہو رہے ہیں، جب نیم فوجی آر ایس ایف نے دارفور خطے میں فوج کے آخری مضبوط قلعہ سمجھے جانے والے ال-فاشر پر قبضہ کرنے کے بعد وسطی کردوفان کے علاقے پر حملے کی تیاری شروع کر دی تھی۔ الفاشر سے بھاگنے والے لوگوں نے آر ایس ایف کی جانب سے تشدد اور دھمکیوں کی کہانیاں سنائیں۔ 56 سالہ محمد عبداللہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز شہر کے سقوط سے چند گھنٹے قبل انہیں آر ایس ایف کے جنگجوؤں نے روک لیا اور ہمارے فون، پیسے ، سب کچھ چھین لیا، وہ ہماری مکمل تلاشی لیتے رہے ۔ تقریباً 70 کلومیٹر مغرب میں واقع ٹویلہ جاتے ہوئے انہوں نے ایک لاش دیکھی جو ‘ایسے لگ رہی تھی جیسے کسی کتے نے اسے کھا لیا ہو’۔ ٹرمپ کے افریقہ کے ایلچی مساد بولوس نے اتوار کو سوڈان کے پڑوسی ملک مصر میں وزیرِ خارجہ بدر عبدالعتی سے ملاقات کی تھی، اور پیر کو عرب لیگ کے ساتھ بات چیت کی تھی۔ وزارتِ خارجہ کے بیان کے مطابق ان مذاکرات کے دوران عبدالعتی نے اس بات پر زور دیا تھا کہ سوڈان بھر میں انسانی ہمدردی پر مبنی جنگ بندی اور فائر بندی کے لیے مشترکہ کوششیں انتہائی ضروری ہیں، تاکہ ملک میں ایک جامع سیاسی عمل کی راہ ہموار ہو سکے ۔