کے ٹی آر کی درخواست کی صورت میں یکطرفہ فیصلہ نہیں ہوگا، تلنگانہ حکومت کے موقف کی سماعت کی اپیل
حیدرآباد۔/7 جنوری، ( سیاست نیوز) فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں ہائی کورٹ کے فیصلہ کے فوری بعد تلنگانہ حکومت نے بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ کے اطراف گھیرا تنگ کرنے کی تیاری شروع کردی ہے۔ قبل اس کے کہ کے ٹی آر ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے راحت حاصل کریں‘ تلنگانہ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ میں کیویٹ پٹیشن داخل کرتے ہوئے کے ٹی آر کی درخواست کی صورت میں حکومت کی سماعت کے بغیر فیصلہ نہ دینے کی اپیل کی۔ ہائی کورٹ میں فیصلہ کے ٹی آر کے خلاف رہا اور گرفتاری سے بچنے کیلئے وہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوسکتے ہیں۔ سپریم کورٹ میں تلنگانہ حکومت کی کیویٹ پٹیشن اہمیت کی حامل ہے۔ پٹیشن کا مقصد فریق ثانی کی سماعت کے بغیر عدالت کو یکطرفہ فیصلہ سے روکنا ہے۔ تلنگانہ ہائی کورٹ کے فیصلہ کی نقل سپریم کورٹ میں پیش کی گئی جس میں عدالت نے کے ٹی آر کی درخواست کو نہ صرف مسترد کیا بلکہ عدم گرفتاری سے متعلق عبوری احکامات سے دستبرداری اختیا کرلی جس کے نتیجہ میں کے ٹی آر کی کسی بھی وقت گرفتاری کے امکانات پیدا ہوچکے ہیں۔ سپریم کورٹ نے حکومت کی جانب سے کیویٹ پٹیشن نے مقدمہ کو نیا موڑ دے دیا ہے اور کے ٹی آر کیلئے سپریم کورٹ سے فوری طور پر راحت حاصل کرنا آسان نہیں ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ حکومت نے کیویٹ پٹیشن کی پہلے سے تیاری کرلی تھی اور جسٹس کے لکشمن کا فیصلہ صادر ہوتے ہی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی گئی۔ قانون کے مطابق کیویٹ پٹیشن کے ادخال کے بعدسپریم کورٹ کے ٹی آر کی درخواست کی صورت میں کوئی بھی عبوری حکم یا حکم التواء جاری کرنے سے قبل تلنگانہ حکومت کے دلائل کی سماعت کرے گا۔ سپریم کورٹ یکطرفہ فیصلہ کے بجائے تلنگانہ حکومت اور اینٹی کرپشن بیورو کے موقف کی سماعت کرے گا۔ واضح رہے کہ فارمولہ ای ریسنگ معاملہ میں حکومت ابتداء ہی سے کے ٹی آر کے اطراف گھیرا تنگ کررہی ہے۔ اس معاملہ میں کے ٹی آر کو ایک طرف اے سی بی اور دوسری طرف انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ اینٹی کرپشن بیورو کے اعلیٰ عہدیداروں نے سپریم کورٹ کے نامور وکلاء سے ربط قائم کرتے ہوئے کیویٹ پیٹیشن کی تیاریوں کا ایک قبل ہی آغاز کردیا تھا ۔1