تاڑبن قبرستان کی4000 مربع گز اراضی کیلئے اخبار میں نوٹیفکیشن، مقامی مسلمانوں میں ناراضگی، وقف بورڈ اور حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔/31 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سڑکوں کی توسیع کے نام پر عبادت گاہوں کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جاتا ہے لیکن حالیہ عرصہ میں یہ رجحان چل پڑا ہے کہ مذہبی عبادت گاہوں کو اراضی کے حصول کی نوٹس دی جارہی ہے۔ سکندرآباد کنٹونمنٹ کے تاڑبن علاقہ میں واقع 300 سالہ قدیم قبرستان کی 4000 مربع گز اراضی کو حاصل کرنے کیلئے ایچ ایم ڈی اے کی جانب سے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا۔ یہ مسلم قبرستان وقف ہے اور اے پی گزٹ نمبر 40/C مورخہ 7 اکٹوبر 1982 میں درج اوقاف ہے۔ 300 سالہ اس قدیم قبرستان کی جملہ 4 ایکر اراضی ہے جس میں سینکڑوں قبور موجود ہیں۔ علاقہ کا یہ قدیم قبرستان ان دنوں ایچ ایم ڈی اے حکام کے نشانہ پر ہے۔ ایچ ایم ڈی اے نے سڑک کی توسیع کے نام پر سروے نمبر 204 میں موجود اس قبرستان کی 4475 مربع گز اراضی حاصل کرنے کی نوٹس جاری کی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مجلس انتظامی مسلم قبرستان سے ربط قائم کئے بغیر ہی یکطرفہ طور پر کارروائی کی گئی جس کے نتیجہ میں مقامی مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلم قبرستان کمیٹی کے صدر محمد عابد نے کمیٹی کے عہدیداروں کے ساتھ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر اور چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ اسد اللہ سے ملاقات کی اور انہیں ایچ ایم ڈی اے حکام کے اخباری نوٹیفکیشن سے واقف کرایا۔ انہوں نے کہا کہ سڑک کی توسیع کے سلسلہ میں قبرستان میں موجود قبور کو مسمار کرنے کی تیاری ہے اور قبرستان کے اندرونی حصہ میں حاصل کی جانے والی اراضی کی نشاندہی کردی گئی ہے۔ قبرستان کمیٹی نے حکومت اور وقف بورڈ سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری مداخلت کرتے ہوئے ایچ ایم ڈی اے حکام کو قبور کو مسمار کرنے سے روک دیا جائے بصورت دیگر مقامی مسلمان احتجاج پر مجبور ہوجائیں گے۔ چیف ایگزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے وقف بورڈ میں موجود ریکارڈ کی نقل کے ساتھ کمشنر ایچ ایم ڈی اے کو مکتوب روانہ کیا ہے۔ عہدیداروں کی ٹیم تشکیل دی گئی جو قبرستان کا سروے کرتے ہوئے کمشنر ایچ ایم ڈی اے کو رپورٹ پیش کرے گی۔ حکومت کے مشیر محمد علی شبیر نے ایچ ایم ڈی اے حکام سے ربط قائم کیا اور انہیں پابند کیا کہ وہ قبرستان کے حصول کے سلسلہ میں کوئی پیشرفت نہ کریں کیونکہ اس قدیم قبرستان میں سینکڑوں کی تعداد میں قبور موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں بہت جلد اجلاس طلب کرتے ہوئے اس مسئلہ کی یکسوئی کی جائے گی۔ مسلمانوں نے مقامی رکن اسمبلی سری گنیش سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔1