واٹس ایپ گروپس میں نوجوانوں کو اسٹیشن پہونچنے کہا گیا تھا ۔ تحقیقات میں انکشاف کا دعوی
حیدرآباد۔/17 جون ، ( سیاست نیوز) سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پر نوجوانوں کا پُرتشدد احتجاج اور سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا منصوبہ بند تھا۔ پُرتشدد احتجاج میں شریک ہونے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد ریاست تلنگانہ کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھتی ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا ہے کہ ریلوے اسٹیشن پر پُرتشدد احتجاج کرنے سے ایک دن قبل ہی نوجوانوں نے اپنے واٹس ایپ کے ذریعہ ایک دوسرے سے رابطہ کرتے ہوئے17 جون کو سکندرآباد ریلوے اسٹیشن پہنچنے کی اپیل کی گئی تھی جس کے نتیجہ میں وہ کل رات ہی اضلاع سے شہر کو پہنچ گئے تھے۔ پولیس کو ایسے شواہد دستیاب ہوئے ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پُرتشدد احتجاج منصوبہ بند طریقہ سے کیا گیا۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ پولیس کو جو شواہد ہاتھ لگے ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ سکندرآباد ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر 10 پر صبح ٹھیک 9 بجے حملہ کرنے کا منصوبہ تیار کرلیا گیا تھا اور مین گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی احتجاج کا آغاز کردیا گیا۔ ریلوے انجن کو نذرآتش کرنے کیلئے پارسل سیکشن میں موجود موٹر سیکلوں کا استعمال کیا گیا جبکہ بوگیوں کو نذرآتش کرنے کے علاوہ اے سی کمپارٹمنٹس کے شیشوں اور سیٹس کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس کو یہ معلوم ہوا ہے کہ پُرتشدد احتجاج کے دوران پولیس پر سنگباری کرنے کیلئے ریلوے پٹریوں پر موجود پتھروں کا استعمال کرنا طئے تھا۔ ب