سیاحت کی ترقی کیلئے طویل مدتی منصوبہ کے ساتھ کام کرنے کی ضرورت

,

   

سائنسی طریقہ کار اور نئی سوچ کے ذریعہ سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت پر وزیراعظم مودی کا زور

نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو ملک میں سائنسی طریقہ کار اور نئی سوچ کے ساتھ سیاحت کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس شعبے میں زراعت، بنیادی ڈھانچہ اور ٹیکسٹائل جیسے شعبے کی ہی طرح روزگار کے بڑے مواقع پیداکرنے کی صلاحیت ہے ۔مسٹر مودی پوسٹ بجٹ ویبینار سیریز کے آج کے ایپی سوڈ میں سیاحت کے شعبے کی ترقی پر حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز کے نمائندوں کے ایک مباحثے کا افتتاح کر رہے تھے ۔ انہوں نے اس شعبے کے لیے طویل مدتی منصوبے پر کام کرنے کا مشورہ دیا۔ ہندوستان کے سیاحتی مقامات سے متعلق ایپ اور ڈیجیٹل مواد کو اقوام متحدہ کی تمام تسلیم شدہ زبانوں کے ساتھ ملک کی تمام بڑی زبانوں میں تیار کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سیاحتی مقامات پر اشارے بھی تمام زبانوں میں ہونے چاہئیں، جس سے دوسری زبان بولنے والے سیاحوں کے لیے آسانی ہوجاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم ایسی چیزوں کی اہمیت کوسمجھیں اور سائنسی سوچ کے ساتھ سیاحت کے شعبے کو ترقی دیں تو اس شعبے میں روزگار پیدا کرنے کی طاقت وہی ہے جو زراعت، انفراسٹرکچر اور ٹیکسٹائل جیسے شعبوں میں ہے ۔ انہوں نے ہندوستان میں تربیت یافتہ مختلف زبانوں کے لئے ٹورسٹ گائیڈز کی تعداد بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا اور اس کے لیے اداروں میں کورسز اور سرٹیفیکیشن کا نظام اور گائیڈز کے لیے ڈریس کوڈ تجویز کیا۔مسٹرمودی نے کہا، ‘‘ملک میں سیاحت کے شعبے کو نئی بلندیوں پر پہنچانے کے لیے ہمیں لیک سے سے ہٹ کر سوچنا ہوگا اور طویل مدتی منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔’’ انہوں نے کہا کہ جب بھی کسی سیاحتی مقام کو ترقی دینے کی بات آتی ہے تو تین سوال اہم ہوتے ہیں، پہلا یہ کہ اس جگہ کی اہمیت کیا ہے ، دوم، وہاں آسان رسائی کی بنیادی ضروریات کیا ہیں اور انہیں کیسے پورا کیا جائے اور تیسرا پروموشن کے لئے کیاکیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں سیاحتی مقامات پرسہولیات میں اضافہ، اچھی رسائی، اسپتال کی دستیابی اور بہتر انفراسٹرکچرنیزگندگی کا نام ونشان نہ ہوتو ملک کی سیاحت میں کئی گنا اضافہ ہوسکتا ہے ۔وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان آج سیاحت کے شعبے کو تبدیل کرنے کے عمل میں ہے اور آج کی ضرورت “نئی سوچ اور طویل مدتی منصوبہ بندی’ کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جب تمام اسٹیک ہولڈرز کام کو حکمت عملی اور مؤثر طریقے سے کرنے کے لئے کندھے سے کندھا ملا کر چلتے ہیں تومطلوبہ نتائج بروقت حاصل ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں صدیوں سے سیاحت کا بہت بڑا دائرہ موجود ہے ۔ ملک میں صدیوں سے یاترا ہو رہی ہیں۔ یہ ہندوستان کی ثقافتی زندگی کا ایک حصہ رہی ہے ۔ انہوں نے مقام عقیدت سے جوڑنے والی چاردھام، دوادش جیوترلنگ کی یاترا، 51 شکتی پیٹھوں کی یاترا اور ایسی تمام یاترا کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جب وسائل نہیں تھے تب بھی لوگ تکالیف برداشت کرتے ہوئے سفر کرتے تھے ۔ ”ان یاتراؤں نے ملک کو مضبوط کرنے کا بھی کام کیا ہے ۔
مودی نے این پی پی کے ساتھ مل کر کام جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کیا
نئی دہلی : وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعہ کو کہا کہ وہ میگھالیہ کی ترقی کے لئے نیشنل پیپلز پارٹی (این پی پی) کے ساتھ کام جاری رکھنا چاہتے ہیں۔مودی نے میگھالیہ اسمبلی انتخابات میں این پی پی کی شاندار کارکردگی کے لیے وزیراعلیٰ سنگما کونراڈ کو مبارکباد دی اور کہا کہ وہ ریاست کی ترقی کے لیے مل کر کام کرنے کے لیے پر امید ہیں۔انہوں نے آنجہانی لیڈر پی اے سنگما کو بھی یاد کیا۔ انہوں نے کہا، ‘‘میرے دوست مرحوم پی اے سنگما جی کو بہت فخر ہوتا‘‘۔ریاستی اسمبلی کی 59 نشستوں کے لیے 27 فروری کو ہوئے انتخابات میں، این پی پی 26 نشستیں جیت کر واحد سب سے بڑی پارٹی بن کر ابھری ہے ، لیکن 31 نشستوں کے جادوئی اعداد و شمار سے پیچھے رہ گئی۔ دوسری جانب این پی پی کی اتحادی یونائیٹڈ ڈیموکریٹک پارٹی کو 11 جبکہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے کھاتے میں دو سیٹیں آئی ہیں۔دریں اثنا، آسام کے وزیر اعلیٰ ہمانتا بسوا سرما نے کہا ہے کہ مسٹر سنگما نے میگھالیہ میں نئی حکومت کی تشکیل میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے حمایت مانگی ہے ۔