یونیورسٹیز میں ہسٹری کے شعبے نظر انداز ، جناب ظہیر الدین علی خاں و دیگر کا خطاب
حیدرآباد۔18نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ کونسل برائے تاریخی تحقیق( ٹی سی ایچ آر) کے زیراہتمام منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ظہیر الدین علی خان نے کہاکہ موجودہ دور میںتاریخ سیاسی مفادات کے لئے تحریر کی جارہی ہے جو جمہوری اقدار کے خلاف ہے ۔ انہوں نے مزیدکہاکہ تاریخ لکھنے کی ذمہ داری سیول سوسائٹی پر ہونی چاہئے تاکہ تاریخی حقائق کو منظرعام پر لایاجاسکے اور اس کو عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے نفرت کے ماحول کوختم کیاجاسکے۔انہوں نے مزیدکہاکہ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ریاست کی چار سے پانچ ایسی یونیورسٹیاں ہیں جہاں پر تاریخ کا شعبہ ہی ندارد ہے ۔ جبکہ حکومت تلنگانہ خود ریاست حیدرآباد اور تلنگانہ کی قدیم تاریخ کے احیاء کی کوششیں کررہی ہے۔ انہوںنے کہاکہ سیول سوسائٹی کی جانب سے تاریخ تحریر کرنے کے باب میں سیاست اورتلنگانہ کونسل برائے تاریخی تحقیق( ٹی سی ایچ آر) کی مشترکہ کوشش کی شروعات ہوئی ہے ۔انہوں نے کہاکہ اس کوشش کاواحد مقصد عوام میں حقیقت کے متعلق شعور بیداری ہے ۔ ظہیرالدین علی خان نے کہاکہ نظام دور حکومت‘ رضا کار‘ اور پولیس ایکشن کے متعلق جو غلط فہمیاں اور بدگمانیاں پیدا کی گئی ہیں اس کو دور کرنے کے لئے سیول سوسائٹی کے ہاتھوں سے ریاست حیدرآباد اورتلنگانہ کی تاریخ تحریر کرنے کو انجام دینے کاکام کیاجارہا ہے۔مستقبل میںمورخین کی قلت کے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے ظہیرالدین علی خان نے کہاکہ آج کل تکنیکی تعلیم اور میڈیسن وغیرہ کی طرف نوجوانوں کی رغبت ہے جس کی وجہہ سے تاریخ میںگمراہ کن باتیں شامل کردی گئی ہیں۔ انہوںنے کہاکہ حکومت تلنگانہ ہو یا پھر ٹی سی ایچ آر یا ایچ آرسی ہو اس کمی کو دور کرنے کاکام کررہے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ادارے سیاست اور ٹی سی ایچ آر نے بھی حقیقی تاریخ عوام کے سامنے پیش کرتے ہوئے ان کے ذہنوں میں پائے جانے والے خدشات کو دور کرنے کی کوشش کررہی ہے ۔ ٹی سی ایچ آر سکریٹری ٹی ویویک نے میڈیا کو بتایاکہ مستقبل قریب میں ریاست حیدرآباد اور تلنگانہ کی حقیقی تاریخ پر مشتمل ایک سمینار منعقد کیاجائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ہماری کوشش ہے کہ ہم ریاست کے یونیورسٹیوں‘ سرکاری کالجوںکو اس میںشامل کریں اور بڑی حدتک ہمیںکامیابی حاصل ہوئی ہے ۔ ویویک نے کہاکہ ادارے سیاست کے اشتراک سے جنوری 2023کے پہلے ہفتہ میں ریاست حیدرآباد کی تاریخ پر دو روزہ سمینار منعقد کرنے جارہے ہیں جس میںنامور مورخین اور محقیقین کی شرکت متوقع ہے ۔ انہوں نے تاریخ حیدرآباد پر مقالہ تحریر کرنے والوں کو بھی مدعو کیاہے اور بتایا کہ [email protected] پر مقالہ نگار اپنے پرچہ ای میل کرسکتے ہیں ۔ انہو ںنے مزیدکہاکہ بہترین پرچہ پر انعام بھی دیاجائے گا ۔ انہوں نے ملک او ریاست میںبڑھتی فرقہ پرستی کے سدباب کے لئے اس طرح کی کوششوں کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ممتاز مورخ اڈپا ستیہ نارائنہ نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایاکہ ادارے سیاست اور آئی سی ایچ آر کے اشتراک سے جو سمینارکے انعقاد کا مقصد آصفجاہی سلاطین کے بارے میں پھیلائی گئی غلط فہمیوں کو دو ر کرنا ہے۔ستیہ نارائنہ نے کہاکہ خود کو ہندوتوا فورسیس کہنے والے کچھ طاقتیںسماج میںزہر پھیلانے کاکام کررہے ہیں جس کو روکنا ضروری ہے ۔انہوں نے کہاکہ ہندوتوا فورسیس آصف جاہی کے مبینہ منفی پہلوئوں کے متعلق پروپگنڈے کررہے ہیں ۔ مگر ہماری کوشش یہ ہے کہ ہم تاریخ حقائق پر مبنی تحریر کریں جو تاریخی شواہد کی بنیاد پر ہے اور جو دستاویزات آرکیوز میں دستیاب ہیںان کے حوالے سے اس کام کو انجام دینا ہمارا مقصد ہے ۔کیپٹن لنگالہ پانڈورنگا ریڈی‘ اور ٹی سی ایچ آر نائب صدر ضیاء الدین نیر نے بھی کونسل کی جانب سے شروع کی گئی اس تحریک کاخیر مقدم کرتے ہوئے اپنے ہر ممکن تعاون کا اعلان کیاہے۔ صدر ٹی سی ایچ اڑ ڈاکٹر جی وینکٹ رام ریڈی‘ اور ای سی رکن جی وشنو سوراوپ ریڈی بھی اس موقع پر موجود تھے۔