سی اے اے میں مسلمانوں کا شامل کی جائے، اکالی دل نے بی جے پی ساتھ چھوڑدیا، دہلی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ، بی جے پی مشکلات میں اضافہ

,

   

نئی دہلی: شرومنی اکالی دل نے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دہلی کے مجوزہ اسمبلی انتخابات میں مقابلہ نہیں کرے گی اور ہو شہریت ترمیمی قانون پر اپنے موقف میں تبدیلی کیلئے تیار نہیں ہے جیسا کہ اس کی اتحادی بی جے پی نے مطالبہ کیا ہے۔ اکالی دل لیڈر منجندر سنگھ سرسا نے بتایا کہ اکالی دل اور بی جے پی کے درمیان تعلقات پرانے ہیں۔آج وہ دہلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ سی اے اے میں تمام مذاہب کو شامل کرنے کی مطالبہ کیا ہے لیکن بی جے پی حکومت چاہتی ہے کہ ہم اس مطالبہ میں نظر ثانی کریں، لیکن ہم اپنے فیصلہ کی نظرثانی کرنے کے بجائے دہلی انتخابات میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکالی دل کا یہ بھی ماننا ہے کہ این آر سی پر عمل آوری نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے وض احت کرتے ہو ئے کہا کہ یقینا ہم نے سی اے اے کی تائید کی تھی لیکن ہم نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ سی ا ے اے سے کسی مذہب کو اس سے باہررکھا جائے۔ اکالی دل کے لیڈر نے بتایا کہ کوئی ایسا قانون نہیں بننا چاہئے کہ لوگ قطاروں میں کھڑے رہیں اور اپنی شہریت بتائیں۔ واضح رہے کہ دہلی میں بی جے پی اور اکالی دل کئی سال سے 3تا4 نشستوں پر اتحاد کرتے ہوئے اسمبلی انتخابات کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی 57 نشستوں پر امیدوار کھڑے کئے ہیں۔

باقی 13 نشستوں میں 4 سیٹوں پر بی جے پی اکالی دل متحدہ طور پر انتخابا ت لڑنے والے تھے لیکن اب اکالی دل نے انتخابات میں حصہ لینے سے انکارکردیا۔ اب دیکھنا ہے کہ کیا بی جے پی بغیر اکالی دل کے ان سیٹوں پر کامیاب ہوتی ہے یا نہیں؟ اس طرح اکالی دل نے بی جے پی کا ساتھ چھوڑدیا۔