شادی مبارک اسکیم کے تحت 2.17 لاکھ لڑکیوں میں 1751 کروڑ روپئے تقسیم

   


جاریہ سال بجٹ میں 300 کروڑ روپئے مختص، دوسرے اسکیمات کا احاطہ محکمہ اقلیتی بہبود سے رپورٹ کی اجرائی

حیدرآباد ۔ 24 ستمبر (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے اقلیتوں کیلئے متعارف کردہ ’’شادی مبارک‘‘ اسکیم کیلئے تاحال 2.17 لاکھ افراد میں 1751 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے۔ مالیاتی سال 2022-23 کیلئے اس اسکیم کیلئے 300 کروڑ روپئے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے یہ بات بتائی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہیکہ اس اسکیم کی بدولت اقلیتوں میں بچپن کی شادیوں کا بڑی حد تک رجحان گھٹ گیا ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر نے غریب عوام پر لڑکیوں کی شادی کیلئے عائد ہونے والے مالی بوجھ کو کسی قدر کم کرنے کیلئے اکثریتی طبقہ کیلئے کلیانہ لکشمی اور اقلیتوں کیلئے شادی مبارک اسکیم کو متعارف کرایا ہے۔ ساتھ ہی محکمہ اقلیتی بہبود کے جاری کردہ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہیکہ اقلیتوں یک تعلیمی ترقی کیلئے تلنگانہ حکومت نے اقلیتی اقامتی اسکولس کی تعداد کو 12 سے بڑھا کر 206 تک پہنچادیا ہے۔ ان اسکولس میں 1.14 لاکھ طلبہ زیرتعلیم ہیں جنہیں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ قیام و طعام کی تمام سہولتیں مفت دستیاب ہیں۔ بیرونی ممالک کے یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کیلئے اقلیتی طلبہ کو چیف منسٹر اوورسیز اسکالر شپس کے تحت تاحال 6.30 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ہیں۔ اقلیتی طلبہ کیلئے مالیاتی سال 2022-23ء کے بجٹ میں 100 کروڑ روپئے مختص کئے گئے ہیں۔ 40 کروڑ روپئے کے مصارف سے نامپلی میں انیس الغرباء کی جدید عمارت تعمیر کروائی جارہی ہے۔ 10 ہزار ائمہ مؤذنین کو ماہانہ 5 ہزار روپئے مشاہرہ ادا کیا جارہا ہے۔ رمضان گفٹس کے طور پر 4.65 لاکھ مسلمانوں میں اور کرسمس کے موقع پر 5 لاکھ عیسائیوں میں نئے کپڑے تقسیم کئے جارہے ہیں۔ن