’’اردو ادب کی نشونما میں غیر مسلم شعرا کا حصہ‘‘ کے موضوع پر تیس سے زائدجامعات کے اساتذہ نے مقالے پڑھے
حیدرآباد۔/18فبروری ( پریس نوٹ ) میرے والد بھی اردو جانتے تھے یہی وجہ ہے کہ مجھے اس زبان سے جذباتی لگائو ہے ۔ ایسے سمینار ہوتے رہنے چاہیے کیونکہ اس سے ہماری زبان و ادب کو تقویت ملتی ہے ، یہ سمینار ہمارے لئے کسی تہوار سے کم نہیںہے ، اردو زبان دلوں کو جوڑنے والی زبان ہے۔ان خیالات کا اظہارپروفیسر بی جے راؤ ‘ وائس چانسلر یونیورسٹی آف حیدرآباد نے شعبہ اردو کے سہ روزہ سمینار ’’اردو ادب کی نشونما میں غیر مسلم شعرا کا حصہ‘‘ کا افتتاح کرتے ہوئے کہا۔انہوں نے موضوع کے حوالے سے مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ایک سمینار Contribution Of Non Muslim South Poets In The Development Of Urdu Litrature کے عنوان سے بھی منعقد کیا جاسکتا ہے ‘اردو کا بہت بڑا سمینار منعقد کرنے پر انہوں نے صدر شعبہ اردو ‘ تمام اساتذہ اور طلبا کو مبارک باد دی۔افتتاحی اجلاس کی صدارت پروفیسر وی کرشنا ‘ ڈین اسکول آف ہیوما نٹیز نے کی اور کہا کہ میرے والد کم پڑھے لکھے تھے مگر اردو میںدستخط کیا کرتے تھے اور اسی دستخط نے مجھے یہاںتک پہنچایا ہے۔مہمان خصوصی میں پروفیسر خواجہ محمد اکرام الدین‘ پروفیسر شہاب عنایت ملک‘ پروفیسر خواجہ احمد فاروقی‘پروفیسر نجمہ رحمانی اور پروفیسر نسیم الدین فریس شامل تھے ۔سمینار کا پُرمغز کلیدی خطبہ پروفیسر شہزاد انجم نے دیا جبکہ مہمانوں کا استقبال پروفیسر سید فضل اللہ مکرم صدر شعبہ اردو نے کیا اور سمینار کے اغراض و مقاصد کنوینر سمینار ڈاکٹر نشاط احمد نے بیان کیے۔اس سہ روزہ قومی سمینار میں ملک بھر سے زائد از30 جامعات کے اساتذہ اور دانشور حضرات نے شرکت کی۔افتتاحی اجلاس کے بعد مشاعرہ کا انعقاد پروفیسر مقبول فاروقی کی صدارت میں منعقد ہوا۔مختلف تکنیکی اجلاسوں کے صدور میں پروفیسر شوکت حیات،پروفیسرقاسم علی خان‘ پروفیسرسجاد حسین‘پروفیسر مجید بیدار‘جناب رفیق جعفر، پروفیسر آمنہ تحسین‘ڈاکٹر صادقہ نواب سحر‘ڈاکٹر عرشیہ جبین اور افتتاحی اجلاس کے مہمان پروفیسرحضرات نے کی۔مقالہ نگاروں میںپروفیسربشیر احمد‘پروفیسر خواجہ اکرام الدین ‘پروفیسر شہاب عنایت ملک‘ ڈاکٹرمقبول احمد مقبول‘ڈاکٹراسلم مرزا‘ڈاکٹر عبدالغنی‘ڈاکٹر رئوف خیر‘پروفیسر شمس الہدی دریابادی، ڈاکٹر امین اللہ‘ ڈاکٹر چمن لال‘ڈاکٹر گل رعنا ‘ڈاکٹر شکیلہ گوری خان‘ ڈاکٹر الطاف انجم‘ ڈاکٹر شیخ عمران ‘ڈاکٹر ایف ایم سلیم ‘ڈاکٹر وصی اللہ بختیاری ‘ڈاکٹر اسرار الحق سبیلی‘پروفیسر مسرت جہاں، ڈاکٹر نثار احمد ‘ ڈاکٹر عبدالباری‘ ڈاکٹر انوپما کول‘ ڈاکٹر علیم اللہ حسینی‘ ڈاکٹر حکیم رئیس فاطمہ‘ ڈاکٹر محمد شارب‘ ڈاکٹر نصرت جبیں‘ ڈاکٹر محمد سمیع‘ ڈاکٹر محمد معین الدین ‘ ڈاکٹر حمیرہ تسنیم‘ ڈاکٹر شمس الدین ‘ڈاکٹر عتیق اجمل‘ ڈاکٹر اطیع اللہ‘ڈاکٹر فاروق باشا ‘ ڈاکٹر محمد خواجہ مخدوم محی الدین، ڈاکٹر کلیم محی الدین‘ ڈاکٹر عبدالقوی‘ ڈاکٹر مبیدہ مزکل ‘ ڈاکٹر مدثر احمد ‘ ڈاکٹر زہرہ جبیں‘ ڈاکٹر جعفرجری‘ ڈاکٹر فیض اللہ ‘ ڈاکٹر بی بی رضاء خاتون‘ ڈاکٹر ممتاز ‘ ڈاکٹر نجمہ سلطانہ‘ ڈاکٹر سردار ساحل ‘ ڈاکٹر سمیہ‘ ڈاکٹر نوری خاتون‘ ڈاکٹر غوثیہ ‘ ڈاکٹر ثمینہ‘ شبلی آزاد‘ اسماء امروز‘ عاصم بدر‘ جمال الدین ‘ نسرین ‘ نازیہ ‘ محمدنسیم ‘ محمد خواجہ غوث محی الدین وغیرہ قابل ذکر ہیں۔