شہریت ترمیمی بل کی مخالفت کے سی آر کے سیکولرازم کا ثبوت: محمود علی

   

حیدرآباد۔ 11 ڈسمبر (سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر صرف زبانی طور پر سکیولر نہیں بلکہ عملی طور پر سکیولر قائد ہیں۔ وہ ملک بھر میں سکیولرازم کے لیے قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ٹی آر ایس نے شہریت ترمیمی بل پر پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مخالفت کرتے ہوئے اپنے سکیولرازم کا ثبوت دیا ہے۔ بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ بل کی کے سی آر نے مخالفت کرنے کی ہدایت دی تھی۔ کے سی آر نے دونوں ایوانوں میں ارکان کو حاضر رہنے اور مخالفت میں ووٹ دینے کی ہدایت دی تھی۔ لوک سبھا میں نامہ ناگیشور رائو اور راجیہ سبھا میں ڈاکٹر کیشور رائو نے بل کی مخالفت میں تقریر کی اور اسے غیر دستوری قرار دیا۔ محمود علی نے کہا کہ مسلمانوں کے ماسوا دیگر مذاہب کے پناہ گزینوں کو شہریت دینا دستور کی دفعہ 14 کے مخالف ہے۔ ٹی آر ایس نے بل میں مسلم پناہ گزینوں کو شامل کرنے کا مطالبہ کیا۔ محمود علی نے کہا کہ این آر سی کے معاملہ میں بھی ٹی آر ایس مخالف ہے۔ تلنگانہ میں دونوں قوانین پر عمل نہ کرنے کی گزارش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے 2014ء سے مسلمانوں کے لیے جن فلاحی اسکیمات کا آغاز کیا اس کی مثال کسی اور ریاست میں نہیں ملتی۔ اقامتی اسکولوں کا قیام کے سی آر حکومت کا کارنامہ ہے۔