شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کرنے والوں پر پولیس ظلم کی مذمت

   

جامعات میں پولیس فائرنگ سے نوجوانوں کی غیرت کو للکار ، مولانا جعفر پاشاہ کا ردعمل
حیدرآباد۔16ڈسمبر(سیاست نیوز) ملک کی مختلف جامعات میں جاری این آر سی اور شہریت ترمیم قانون کے خلاف احتجاج کو پولیس کی جانب سے نشانہ بنائے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ پولیس جامعہ ملیہ ‘ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور دارالعلوم ندوۃ العلماء کے طلبہ کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے کیونکہ پولیس کا رویہ واضح کر رہا ہے کہ وہ مخصوص نظریہ کے حامل افراد کو خوش کرنے کی کوشش کررہا ہے جو کہ ملک کے اتحاد میں رخنہ ڈالنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے اس صورتحال پر گہرے تاسف کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں طلبہ کی آواز کو کچلا نہیں جاسکتا کیونکہ وہ کسی سیاسی جماعت یا قائد کے اشاروں پرکام نہیں کر رہے ہیں بلکہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر احتجاج میں شامل ہیں۔ مولانا محمد حسام الدین ثانی جعفر پاشاہ نے کہا کہ مقتدر طبقہ شہریت ترمیم قانون اور این آر سی کے خلاف جاری احتجاج کو مذہبی منافرت کا شکار بنانے کی کوشش کررہا ہے لیکن ان کی یہ کوششیں ناکام ثابت ہوں گی کیونکہ ملک کی جامعات میں احتجاجیوں میں شامل افراد میں اکثریتی طبقہ کے افراد کا موجود ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ ہندستان کے سیکولر خمیر کو کوئی طاقت دھکا نہیں پہنچا سکتی۔ انہو ںنے اپنے بیان میں کہا کہ جامعہ ملیہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی طالبات نے احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے پولیس کی لاٹھیوں اور گولیوں کا سامنا کرتے ہوئے ہندستانی نوجوانوں کی غیرت کو للکارا ہے اور اگر اب بھی نوجوان اس معاملہ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو اس کے سنگین نتائج برآمد ہوںگے۔ امیر امارت ملت اسلامیہ نے کہا کہ ملک کی تمام ریاستوں میں جامعات کے طلبہ بلا تفریق مذہب و ملت اس احتجاج کا حصہ بن رہے ہیں جو کے مذہبی منافرت پھیلانے والوں کی سازشوں کے خلاف کیا جا رہاہے اور وہ ہر اس طاقت کے ساتھ ہیں جو ملک کے دستور اور آئین کی روح کی حفاظت کے لئے کھڑی ہے۔انہوں نے عامتہ المسلمین سے اپیل کی کہ وہ بھی پولیس کی ان ظالمانہ کاروائیوں اور حرکات کے خلاف اپنا احتجاج درج کروائیں اور اس بات کی کوشش کریں کہ ان سے کسی بھی طرح سے اظہار یگانگت کیا جائے۔ انہوں نے جامعہ ‘ علی گڑھ اور ندوۃ میں کی جانے والی کاروائیوں کو غیر آئینی اور ظالمانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پولیس ان کاروائیوں کے ذریعہ منافرت کی آگ بھڑکانے کی کوشش کررہی ہے اور دستوری حق سے محروم کیا جا رہا ہے۔