می سیوا کی قطاروں کی طرز پر رائے دہی میںبھی حصہ لیکر ترقیاتی کاموں کیلئے مجبور کریں
حیدرآباد۔ می سیوا کی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے رہنے والے شہری اگر یکم ڈسمبر کو اپنے علاقہ کے مرکز رائے دہی پر چند منٹ کیلئے قطار میں کھڑے ہوتے ہیں تو وہ حالات تبدیل کرسکتے ہیں اور اپنے امیدواروں کے انتخاب کے ذریعہ ان کو ترقیاتی کاموں کیلئے مجبور کرنے میں اپنا کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔حکومت کی جانب سے فراہم کی جانے والی 10ہزار کی رقمی امداد کے لئے جو جدوجہد کی گئی ہے اگر وہی جدوجہد اپنے حق رائے دہی کے استعمال کے لئے کی جاتی ہے تو ایسی صورت میں شہر حیدرآباد بالخصوص پرانے شہر کی تصویر بدلی جاسکتی ہے۔ رائے دہندوں میں شعور اجاگر ہو اور ان کی جانب سے اپنے محلہ اور علاقہ کی ترقی کے اقدامات کئے جائیں تو ممکن ہے کہ ریاست تلنگانہ کے مثالی علاقوں میں پرانے شہر کے علاقوں کو بنایاجاسکتا ہے کیونکہ پرانے شہر کے علاقو ںمیں موجود تاریخی عمارتوں کو اگر تحفظ فراہم کرتے ہوئے ان کی ترقی کے اقدامات کئے جاتے ہیں تو اس کا فائدہ پرانے شہر کے عوام کو ہی ہوگا اور سیاح جب پرانے شہر کو آئیں گے تو اس علاقہ کی تجارتی سرگرمیوں میں ہی اضافہ ہوگاجو کہ حکومت کی 10 ہزار کی ایک مرتبہ کی امداد سے کافی زیادہ کارآمد ثابت ہوسکتا ہے اسی لئے رائے دہندوں کو اپنے حق رائے دہی کے استعمال میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔می سیوا پر لگائی جانے والی قطاروں پر متفکر شہریوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ می سیواپر 10 ہزار روپئے کے حصول کے لئے درخواست داخل کرنے والوں کی قطاروں سے اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ شہر حیدرآباد میں غربت کا کیا عالم ہوچکا ہے اور لوگ گھنٹوں قطار میں کھڑے ہوکر درخواست داخل کرنے تیار ہیں ۔ سیاسی مبصرین کا کہناہے کہ می سیواکے مراکز پر عوام کی طویل قطاروں سے منتخبہ عوامی نمائندوں کی ناکامی اور نااہلی ثابت ہوتی ہے اسی لئے عوام کو می سیوا کی قطاروں میں 10 ہزار کے حصول کیلئے درخواستوں کے ادخال کے بجائے 5سال میں ایک مرتبہ اپنے حق رائے دہی کے استعمال کیلئے قطار میں کھڑے ہونے کو ترجیح دینی چاہئے تاکہ صورتحال تبدیل ہواور منتخبہ عوامی نمائندوں کو ان کی اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جاسکے ساتھ ہی عوام کو می سیوا مراکز پر قطار میں کھڑے ہونے کی ضرورت محسوس نہ ہو۔شہر حیدرآباد کے عوام اپنے شعور کا مظاہرہ کرتے ہوئے اگر اپنے حق رائے دہی کا استعمال کرنے کے ساتھ اپنے نمائندوں کے انتخاب کے پیمانوں کو تبدیل کریں تو حالات بدل سکتے ہیں۔