شہریوں کیلئے ایل آر ایس کی رعایتی مہلت کا 31 مارچ کو اختتام

   

ایچ ایم ڈی اے کو 97 کروڑ کی آمدنی، سرور ڈاؤن ہونے سے مشکلات
حیدرآباد ۔ 29 مارچ (سیاست نیوز) ایچ ایم ڈی اے کے حدود میں غیرقانونی لے آوٹس کو ریگولرائز کرنے پر تاحال فیس کی شکل میں 97 کروڑ روپئے حاصل ہوئے ہیں۔ اس سلسلہ میں 500 پروسیڈنگس جاری کئے گئے ہیں۔ حکومت کی جانب سے اعلان کردہ رعایت کی مہلت 31 مارچ کو ختم ہوجائے گی ۔ ایل آر ایس کے عمل میں سرور ڈاؤن ہونے کی وجہ سے رکاوٹیں پیدا ہونے کی شکایتیں مل رہی ہیں۔ 7 HMDA ضلع حدود میں 3.5 لاکھ افراد نے درخواستیں داخل کی ہیں۔ وہ لوگ جنہوں نے 10 فیصد پلاٹس کا اندراج مقررہ ڈیڈ لائن تک کرایا ہے انہیں ایل آر ایس کے تحت لایا جائے گا۔ صرف ایچ ایم ڈی اے حدود میں کم از کم 600 تا 100 کروڑ روپئے کی آمدنی ہونے کا اندازہ تھا لیکن مختلف وجوہات سے نشانہ عبور نہ ہوسکا۔ ایل آر ایس کا مکمل عمل سنٹر آف گڈ گورننس انجام دے رہا ہے۔ تکنیکی مسائل کی وجہ سے مشکلات پیش آرہی ہیں۔ فیس کی ادائیگی کے بعد زیادہ تر درخواست گذاروں سے متعلق پلاٹس کی تفصیلات (ایرر) بتائی جارہی ہے جس سے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے۔ ان کی درخواست ہے یا نہیں ان کی جانب سے ادا کردہ فیس کہاں گئی سوال کررہے ہیں۔ حکومت سے 31 مارچ سے قبل اس اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کو ایل آر ایس فیس کے ساتھ اوپن اسپیس چارجس میں 25 فیصد رعایت کا اعلان کرنے کے باوجود بھی توقع کے مطابق عوام کا ردعمل دیکھنے کو نہیں ملا ہے جس کے تناظر میں رعایت کی مہلت میں مزید توسیع دی جائے یا نہیں اس پر غور کیا جارہا ہے۔ ذرائع سے پتہ چلا ہیکہ رعایت کی مہلت میں توسیع کے زیادہ امکانات ہیں۔ چند لے آوٹس کے حدود میں 200 میٹرس تالابیں، پانی کا ذخیرہ نہ ہونے کے باوجود انہیں ایل ۔ 1 زمرے میں زیرالتواء رکھا گیا ہے۔ عملہ کی کمی دیگر وجوہات سے جانچ میں تاخیر ہورہی ہے۔ ایک سروے نمبر کے متصل پلاٹس کی مارکٹ قیمت علحدہ ہونے سے فیس زیادہ ہورہی ہے۔ عہدیداروں کا کہنا ہیکہ تکنیکی مسائل کی وجہ سے یہ سب ہورہا ہے۔