شہر کے آئی ٹی کاریڈر میں پھر مایوس کن رائے دہی

   

ٹیک بیلٹ میں اختتام تک 40 فیصد سے کم رائے دہی ہوئی
حیدرآباد ۔ 14 ۔ مئی : ( سیاست نیوز ) : شہر کے آئی ٹی کاریڈر میں رائے دہی کا فیصد پھر مایوس کن رہا ۔ اگرچیکہ نانک رام گوڑہ ، گچی باولی ، کونڈا پور اور نارسنگی میں پولنگ بوتھ پر صبح 7 بجے سے طویل قطاریں دیکھی گئیں لیکن بعد میں اس میں کمی ہوتی گئی اور 2 بجے دن کے بعد اکثر مراکز رائے دہی ، جہاں پہلے ہجوم تھا ، سنسان دکھائی دئیے ۔ ایک اندازہ کے مطابق ٹیک بیلٹ میں آخر تک رائے دہی 40 فیصد سے بھی کم ہوئی ہے ۔ دراصل اس علاقہ میں صبح 7 تا 9 بجے کے درمیان ووٹ دینے کے لیے رائے دہی مراکز پہنچنے والوں کو غیر معمولی طور پر لمبی قطاریں دیکھ کر حیرت ہوئی ۔ نارسنگی میں ایک بوتھ پر انجنیا پرساد نے کہا کہ ’ ماضی میں ہمیں کبھی بھی پولنگ بوتھ پر 15 تا 20 منٹ انتظار کرنا نہیں پڑا تھا ۔ یہ ہجوم حوصلہ افزاء ہے ‘ ۔ نانک رام گوڑہ کے بوتھ پر صبح 7-30 بجے قطار میں ٹھہرے پی ورٹیکا نے کہا کہ اسمبلی انتخابات کے دوران جب میں صبح 7 بجے آیا تھا تو پورا مقام خالی تھا میں پانچ منٹ میں ووٹ دے کر باہر آگیا تھا ۔ اس مرتبہ میں آدھے گھنٹے سے قطار میں ہوں ‘ ۔ کونڈا پور میں صبح کے وقت بوتھس پر طویل قطاریں تھیں جس کی وجہ لوگ لنچ کے بعد آنے کے لیے واپس ہوگئے تھے ۔ ڈاکٹر روی شنکر صدر فیڈریشن آف گیٹیڈ کمیونٹیز سائبر آباد نے کہا کہ ’ دن میں بعد میں جب ہم بوتھ پر گئے تو وہ پورا خالی تھا ‘ ۔۔