عنقریب اقدامات کا آغاز ، 290 میٹر طویل برج کے لیے 23 کروڑ کا خرچ
حیدرآباد۔22ستمبر(سیاست نیوز) شہر میں ٹریفک کی نقل و حرکت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کے علاوہ بہتر سڑکوں کی فراہمی کے ساتھ ٹریفک کی آمد و رفت کو بہتر بنانے کے اقدامات کے تحت شیخ پیٹ سے جوبلی ہلز کی سڑک پر جلد ہی 23کروڑ کی لاگت سے 290 میٹرطویل 4ٹریک اسٹیل برج کی تعمیرعمل میں لائی جائے گی۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے گئے وعدہ کے مطابق حیدرآباد روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے اس اسٹیل برج کی تعمیر کے اقدامات کا جلد آغاز کیا جائے گا۔شیخ پیٹ سے جوبلی ہلزتک کیلئے تعمیر کئے جانے والے اس برج کے سلسلہ میں عہدیدارو ںنے بتایا کہ یہ برج شیخ پیٹ سے جوبلی ہلز روڈ نمبر 51 کو مربوط کرے گا۔ اس کے علاوہ پنجہ گٹہ پر دو اسٹیل برج کی تعمیر کے علاوہ اندراپارک سے وی ایس ٹی جنکشن اور ملک پیٹ پر اسٹیل برج کی تعمیر کو جنوری 2022 تک مکمل کرلئے جانے کا امکان ہے۔ شیخ پیٹ تا جوبلی ہلز روڈ نمبر 51 تک کے فاصلہ کو کم کرنے کے مقصد کے تحت تیار کردہ اس پراجکٹ سے عوام کو نہ صرف ٹریفک کے مسائل سے نجات حاصل ہوگی بلکہ مسافت میں بھی کمی ہوگی۔ فی الحال شیخ پیٹ سے جوبلی ہلز کی مسافت 5 کیلو میٹرہوتی ہے اور جب اس اسٹیل برج کو مکمل کرلیا جائے گا تو ایسی صورت میں یہ مسافت گھٹ کر 3.5کیلو میٹر ہوجائے گی۔ جوبلی ہلز کی مختلف سڑکو ںبالخصوص روڈ نمبر 45اور 51 پر ہر وقت ٹریفک جام کے مسائل کے سبب شہریوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے لیکن اسٹیل برج کی تعمیر کے مکمل ہونے اور عوام کے لئے اسے کھول دیئے جانے کے بعد ٹریفک جام کے مسائل میں بھی کمی واقع ہوگی۔ حیدرآباد روڈ ڈیولپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کے عہدیداروں نے بتایاکہ جو انجنیئرس اسٹیل برج کی نگرانی کا کام انجام دے رہے ہیں ان کے مطابق ان اسٹیل برجس پر ہیوی وہیکل کی آمد و رفت بھی ممکن ہوگی ۔دونوں شہروںحیدرآبادو سکندرآباد میں ٹریفک جام کے مسائل کو دور کرنے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کے تحت نئے برجس کی تعمیر کے منصوبوں کے علاوہ جاریہ سال کے اختتام تک 10 نئے فوٹ اوور برجس کی تعمیر کا منصوبہ ہے اور کہا جا رہاہے کہ جاریہ سال کے اختتام تک شہر کے مختلف علاقوں میں سڑک عبور کرنے والوں کی سہولت کے لئے نئے فوٹ اوور برجس کی تعمیرکے لئے جو منصوبہ تیار کیا گیا تھا ا س پر عمل آوری کے ساتھ نشاندہی کردہ مقامات پر فوٹ اوور برجس کی تعمیر کو مکمل کرنے کے احکام جاری کردئیے گئے ہیں۔M