شیشہ و تیشہ

   

اطہر شاہ خاں جیدی
ماموں …!!
ناکام محبت کاہر اک دکھ سہنا
ہرحال میں انجام سے ڈرتے رہنا
قدرت کا بڑا انتقام ہے جیدیؔ
محبوبہ کی اولاد کا ماموں کہنا
…………………………
فرید سحرؔ
…!!
دم نکلتے ہی میاں پچیس کا
ہم مناتے جشن ہیں چھبیس کا
چھوٹا بیٹا ہے مرا اُنتیس کا
اس کو میں کہتا ہوں پر بائیس کا
عقد مُجھ سے ہو گیا برجیس کا
میں دیوانہ تھا مگر بلقیس کا
وقت شادی تھا میں اٹھائیس کا
وہ سمجھتی تھی مجھے چالیس کا
بُھول ہم جاتے ہیں پچھلے سال کو
کون لیتا نام ہے چوبیس کا
نوکری مُجھ کو ملی کم عمر میں
جب بہت چھوٹا تھا میں اُنیس کا
حادثے میں اک بڑے میں بچ گیا
واقعہ شاید وہ ہے اکیس کا
میں کروں گا بیٹے کی شادی تبھی
جب وہ ہو جائے گا ستائیس کا
پاس ایم اے ہو کے بھی بیکار ہے
گو کہ اب وہ ہو گیا اڑتیس کا
اس کی شادی کیوں نہیں کرتا میاں
وہ جو بیٹا ہے ترا چھتیس کا
گر گیا اک دانت تو غم کیوں کریں
مُنہ میں چوکھا ہوتا ہے بتیس کا
وہ کسی کی بھی نہیں سُنتا سحرؔ
وہ تو چیلا خاص ہے ابلیس کا
یہ تُمہاری ہے غلط فہمی سحرؔ
وہ مکاں ہے لاکھ اڑتالیس کا
…………………………
…خبر پہ شوشہ …
ہار بھی قبول ہے گر سونے کا ہو !
٭ میڈیا میں ایک خبر وائرل ہوئی کہ ایک عمر رسیدہ شخص نے بیوی کیلئے سونے کی بالیاں جیتنے 30 اُٹھک بیٹھک (Pushups) لگائے۔ بمبئی کی کسی سماجی تنظیم نے شاید بڑی عمر کے افراد صحت کی جانچ کیلئے یہ مقابلہ منعقد کیا تھا۔ جس میں ایک بزرگ شخص نے 30 دنڈ پیل کر بیوی کیلئے سونے کی بالیاں جیتیں۔ اس عمر رسیدہ شخص کیلئے یہ ایک چیلنج سے کم نہ تھا…!!
یہ بات عام ہے کہ گھریلو جھگڑے میں جیت ہمیشہ عورت ہی کی ہوتی ہے۔ اس بزرگ شخص کو یہ بات ذہن نشین رہی ہوگی کہ عورت اسی صورت میں ہار قبول کرتی ہے اگر‘‘ہار سونے’’کا ہو…!!
کے این واصف۔ ریاض
…………………………
ایسی صورت میں …!!
٭ ایک صاحب شدید بیمار ہوئے ۔ ماہر فزیشن سے ربط پیدا کیا تو ان کی سکریٹری نے فون اُٹھایا اور کہا ڈاکٹر صاحب سے پہلے اپائینٹمنٹ کیلئے 3ہفتے درکار ہوں گے !
مریض نے کہا اس وقت تک میرا انتقال ہوچکا ہوگا ۔
سکریٹری : فکر نہ کریں ایسی صورت میں اپائینمنٹ منسوخ بھی ہوسکتا ہے ۔
ابن القمرین ۔ مکتھل
…………………………
عادت …!!
٭ ایک سنیما ہال کے گیٹ کیپر کے دانت میں درد ہوا تو ڈاکٹر کے پاس گیا ۔
ڈاکٹر نے پوچھا کونسے دانت میں درد ہورہا ہے …؟تو گیٹ کیپر بولا : بالکنی میں دائیں طرف سے پانچویں نمبر پر …!!
مظہر قادری ۔حیدرآباد
………………………
کار نمبر
٭ ایک ریاضی داں سڑک پار کررہا تھا کہ ایک تیزرفتار کار نے ٹکر ماردی وہ لنگڑاتا ہوا پولیس اسٹیشن گیا ۔ پولیس نے پوچھا ’’کیا آپ نے کار کا نمبر نوٹ کیا ہے ؟‘‘۔
’’نہیں جناب! کار اس قدر تیز تھی کہ نمبر نوٹ نہ کرسکا البتہ اتنا یاد ہے کہ نمبر کو دو پر تقسیم کریں اور حاصل نو کو اصل سے ضرب دیں تو چار سو آئے گا ‘‘۔
سید حسین جرنلسٹ ۔ دیورکنڈہ
…………………………