حضرت ابو بکر صدیق ؓ، رسول اکرم ؐ کے جانشین اور امت مسلمہ کے محسن اعظم: ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی
حیدرآباد، 8 جنوری (پریس نوٹ) ڈاکٹر مولانا احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجد ، باغ عامہ نے کہا کہ رسول اکرمؐ کا سب سے بڑا کارنامہ اسلامی مشن کیلئے صحابہ کرامؓ کی جماعت تیار کرنا ہے۔ حضورؐ کا جس صحابیؓنے بھی دیدار کیا، وہ اپنے زمانے کے ہیرو تھے۔ امت مسلمہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ رسول اکرمؐ اور دیگر انبیا اکرم علیہ السلام کے بعد سب سے افضل ترین ذات حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی ہے۔ حضرت ابو بکرؓ حضور اکرمؐ کے جانشین اور پہلے خلیفۃ المسلمین تھے۔ حضرت ابو بکرؓ کو ہر وقت حضور اکرمؐ کی معیت نصیب ہوئی تھی۔ وہیں حضرت اسامہ بن زیدؓ (ایک غلام کے فرزند) کو حضورؐ نے محض 17 سال میں فوج کا سپہ سالار مقرر کیا۔ حضورؐ نے اپنے نور نبوت سے جس طرح بزرگ ترین صحابیؓ کی تربیت کی، اسی طرح کم سن اور نوجوانوں کی بھی تربیت کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر صحابیؓ کامل تھے۔ حضرت ابو بکرؓ کا امت مسلمہ پر بہت بڑا احسان ہے۔ حیدرآباد دکن میں تمام خلفاء راشدین کے یوم ولات کا بڑا اہتمام کیا جاتا ہے، اس دن ان کے تذکرے کیے جاتے ہیں۔ جس سے خلفاء راشدین کی تاریخ سے واقفیت ہوتی اور ایمانی حرارت میں اضافہ ہوتاہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ صحابہ کرامؓ پر تنقید حضور اکرمؐ سے بغض اور آپؐ کے مشن سے نفرت کی علامت ہے۔صحابہ اکرام ؓکے بارے میں چھان بین اور جرح کی اجازت نہیں۔ اگر دل کے اندر صحابہؓ کے بارے میں محبت اور وارفتگی کے جذبات ہیں تو ان کے بارے میں پڑھا جائے، ورنہ یہ سمجھا جائے کہ ہماری عقل و فکر کوتاہ ہیں اور ہم اللہ کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ ؓکے بارے میں لب کشائی نہیں کرسکتے۔ صحابہ ؓکے بارے میں رسول اکرمؐ نے فرمایا کہ ’’میرے صحابہ کے معاملہ میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔ میرے بعد انہیں ہدف ملامت نہ بنانا، جو ان سے محبت کرے گا وہ مجھ سے محبت کرنے کی وجہ سے ان سے محبت کرے گا اور جو ان سے بغض رکھے گا وہ مجھ سے بغض کی وجہ سے ان سے بغض رکھے گا، جس نے انہیں ایذاء پہنچائی اس نے مجھے ایذا پہنچائی اور جس نے مجھے ایذا پہنچائی اس نے اللہ کو ایذا دی اور جس نے اللہ کو ایذا دی تو قریب ہے کہ وہ اسے اپنی گرفت میں لے لے‘‘۔ انسانی نفسیات ہے کہ انسان زندگی کے ہر معاملہ میں جدت کو اختیار کرتا ہے اور وہ ہر نئی چیزوں کو فالو کرتا ہے۔ جب کہ دین میں اصل کو اور بنیادی چیزوں کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ بعض لوگوں میں شہرت اور امت میں انتشار پیدا کرنے کی غرض سے امت کے سب سے معتمد علیہ طبقہ صحابہ کرام ؓکو ہدف تنقید و ملامت کرتے ہیں۔ صحابہ کرامؓ تو وہ ہیں، جن کی تربیت خود حضورؐ نے کی تھی۔ جنھیں حضورؐ کی رفاقت حاصل ہوئی تھی۔ خود حضورؐ نے کسی کو بھی صحابہ کے بارے میں برا بھلا کہنے اور ان کی عزت و احترام پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں دی۔ آج افسوس ہے کہ دین ہی کے نام پر صحابہ اکرام ؓکو تقسیم کیا گیا ہے۔ ہم جو مسلمان ہیں اور جو دین ہم تک پہنچا ہے، وہ صحابہ اکرام کی بدولت ہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ صحابہ دین کی بنیاد، اسلام کا قلع اور دین اسلام کے معمار ہیں۔ جس کسی کو دین اسلام سے محبت ہوگی، وہ ہر صحابی کی زندگی کو اپنی زندگی کا حرصِ جاں بنائے گا۔ کسی صحابی کے بارے میں یہ معلوم ہو کہ انھوں نے حضرت محمدؐ کا دیدار کیا تو ہر مسلمان کے اندر صحابی کے بارے میں محبت کے جذبات موجزن ہوں گے۔ جتنی باطل طاقتیں اسلام کی مخالفت کرتی ہیں، وہ سب مسلمانوں کا صحابہ اکرام کے بارے میں اعتماد ختم کرتی ہیں۔ جب صحابہ اکرامؓ پر سے اعتماد ختم ہوگا تو ہمارے ایمان و یقین پر ثابت قدم رہنا مشکل ہوگا۔ اللہ کے کلام یعنی قرآن مجید اور حضور اکرمؐ کی احادیث پر سے یقین ختم ہو جائے گا۔ قرآن، قرآن اور حدیث، حدیث ہے تو وہ صحابہ اکرامؓ کی وجہ سے ہے۔ دین کی آبیاری صحابہؓ کی وجہ سے ہے۔ اگر صحابہ اکرام پر یقین ختم ہوجائے تو کچھ باقی نہیں رہے گا۔ صحابہ اکرامؓ کے بارے میں گستاخیوں کی وجہ سے نوجوان بے دین ہورہے ہیں۔جس سے اجتناب ضروری ہے۔