10ایکر اراضی کے تحفظ کی مساعی، میدک اور توپران میں اوقافی جائیدادوں کا معائنہ
حیدرآباد۔ صدر نشین وقف بورڈ الحاج محمد سلیم نے میدک کے قریب قطب شاہی دور کی ایک غیر آباد مسجد کو آباد کیا۔ انہوں نے مقامی افراد کے ساتھ آج نماز ظہر باجماعت ادا کی اور باقاعدہ مسجد میں پنجوقتہ نمازوں کا آغاز عمل میں آیا ہے۔ مسجد قطب شاہی جو گزٹ نوٹیفائیڈ ہے وہ جنگلاتی علاقہ میں واقع ہے اور طویل عرصہ سے وہاں عبادتوں کا سلسلہ بند تھا۔ مقامی افراد کی جانب سے اطلاع دیئے جانے پر محمد سلیم نے مسجد کو آباد کرنے کا بیڑہ اُٹھایا۔ مختلف سروے نمبرات کے تحت 10 ایکر اوقافی اراضی موجود ہے جو مسجد کے تحت آتی ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ مسجد کو آباد کرنے کے ساتھ ساتھ اس کی اراضی کا بھی تحفظ کیا جائے گا۔ 200 سالہ یہ قدیم مسجد اب پنجوقتہ نمازوں سے آراستہ رہے گی۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے امام اور موذن کی تنخواہ وقف بورڈ کی جانب سے ادا کرنے کا تیقن دیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدرنشین نہیں بلکہ مسلمانوں کے خادم کی حیثیت سے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کی مساعی کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاحال 7 غیر آباد مساجد کو آباد کرنے کا انہیں موقع ملا ہے جس پر وہ بارگاہ خداوندی میں اظہار تشکر پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے مقامی پولیس کے علاوہ مقامی افراد کے تعاون پر بھی اظہار تشکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ وقف بورڈ ریاست میں دیگر غیر آباد مساجد کو بھی آباد کرنے کی مساعی کرے گا۔ تلنگانہ حکومت کا وقف بورڈ کو مکمل تعاون حاصل ہے۔ چیف منسٹر کے سی آر سیکولر ہیں اور انہوں نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کیلئے اسمبلی میں وعدہ کے مطابق جی او 15 جاری کیا ہے۔ محمد سلیم نے کہا کہ مسجد کو آباد کرنے کے سلسلہ میں تمام مذاہب کے افراد کا تعاون حاصل رہا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کیا جاتا ہے۔ انہوں نے میدک کے علاوہ توپران اور دیگر علاقوں میں اوقافی جائیدادوں کا معائنہ کیا اور وہاں وقف بورڈ کا سائن بورڈ آویزاں کیا گیا۔ انہوں نے ضلع عہدیداروں کو ہدایت دی کہ وہ ناجائز قبضوں کی برخاستگی کے اقدامات کریں۔