ہاتھرس واقعہ کی رپورٹنگ کیلئے کیرالا سے گئے صحافی کیساتھ حکام کی زیادتی
نئی دہلی: مختلف صحافی تنظیموں کے اراکین نے منگل کو یہاں پریس کلب آف انڈیا (پی سی آئی) کے باہر احتجاج کرتے ہوئے کیرالا سے تعلق رکھنے والے صحافی صدیق کپن کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔پی سی آئی کے صدر اماکانت لکھیرا نے کہاکہ آج ہم نے اس پروگرام کا اہتمام کپن کے ایک سال جیل میں ہونے کے موقع پرکیا، انہیں موقع پر پہنچنے سے پہلے ہی گرفتار کر لیا گیا، آج تک وہ سلاخوں کے پیچھے ہیں، ہم ایک آزاد میڈیا کے لیے لڑ رہے ہیں۔اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کوئی رپورٹنگ کے لیے موقع پر جا رہا ہے تو میڈیا پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔تحقیقاتی صحافت دن بہ دن دم توڑ رہی ہے، ہم ملک کی عدالت عظمیٰ سے اپیل کر رہے ہیں کہ کپن کو رہا کیا جائے اور ان کے خلاف لگائے گئے الزامات ختم کئے جائیں۔کیرالا یونین آف ورکنگ جرنلسٹس (کے یو ڈبلیو جے)، پی سی آئی اور دہلی یونین آف جرنلسٹس (ڈی یو جے) کے زیراہتمام منعقدہ کئی صحافیوں نے احتجاجی پروگرام میں حصہ لیا۔کپن اور تین دیگر کو اترپردیش کی متھرا پولیس نے گزشتہ سال 5 اکتوبر کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ اجتماعی زیادتی کے بعد مر گئی دلت لڑکی کے گھر والوں سے ملنے ہاتھرس کے ایک گاؤں جا رہے تھے۔چاروں کو امن کی خلاف ورزی کے خدشے پر گرفتار کیا گیا تھا، لیکن بعد میں ان پر غداری اور دہشت گردی کے مختلف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام لگادیا گیا تھا۔ڈی یو جے کی جنرل سکریٹری سجاتا مدھوک نے کہاکہ ہم آج یہاں جمع ہوئے ہیں کیونکہ کپن اور ان کے ساتھ گئے دوسرے صحافیوں کو جیل میں گئے ایک سال ہوچکاہے، عدلیہ کو قدم اٹھانا چاہیے، آپ لوگوں کو غیر معینہ مدت تک جیل میں نہیں رکھ سکتے۔