طالبہ کو آپریشن سندور پوسٹ پر ضمانت ،حکومت کی سرزنش

   

ممبئی ، 27 مئی (یو این آئی) بامبے ہائی کورٹ نے منگل کے روز پونے کی ایک 19 سالہ طالبہ کو ضمانت دے دی، جسے آپریشن سندور کے دوران سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنے کے بعد پہلے اس کے کالج نے معطل کیا اور بعد میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ جسٹس گوری وی گوڈسے اور سوما شیکھر سندریسن کی تعطیلاتی بنچ نے سینہا گڑھ اکیڈمی آف انجینئرنگ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دوسری سال کی طالبہ کو ضمانت دیتے ہوئے فوری رہائی کا حکم دیا اور ساتھ ہی مہاراشٹرا حکومت کو اس کی پوسٹ پر “بنیاد پرست” ردعمل پر تنقید کا نشانہ بنایا۔ عدالت نے کہا کہ لڑکی نے پوسٹ کے بعد ریاست کو وضاحت اور اصلاح کا موقع دیا، لیکن اسے گرفتار کر کے مجرم بنا دیا گیا۔عدالت نے سینہا گڑھ اکیڈمی آف انجینئرنگ کی جانب سے کی گئی کارروائی پر بھی سوال اٹھایا اور کالج کو ہدایت دی کہ طالبہ کو امتحان میں بیٹھنے کی اجازت دی جائے ۔درخواست گزار کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈووکیٹ فرحان شاہ نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ طالبہ کو بغیر شوکاز نوٹس اور سنے بغیر معطل کیا گیا، جو قدرتی انصاف کے اصولوں اور آئین کے آرٹیکل 14 اور 19 (1) کی خلاف ورزی ہے ۔درخواست گزار نے عدالت سے مطالبہ کیا کہ اس کے خلاف کارروائی ختم کی جائے اور اسے سکے امتحانات میں شرکت کی اجازت دی جائے ۔عدالت کو بتایا گیا کہ طالبہ کو رواں ماہ کے آغاز میں اس وقت گرفتار کیا گیا جب اس نے “اصلاحستان” نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ایک پیغام دوبارہ پوسٹ کیا تھا، جس میں آپریشن سندورکے دوران “پاکستان کے خلاف جنگ اکسانے ” پر ہندوستانی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔آن لائن دھمکیاں ملنے پر اس نے دو گھنٹے کے اندر پوسٹ ڈیلیٹ کر دی اور معافی نامہ جاری کر دیا، اس کے باوجود اسے کونڈوا پولیس نے ایف آئی آر کے بعد گرفتار کر لیا اور تب سے وہ یرواڈا جیل، پونے میں عدالتی حراست میں تھی۔ ایڈووکیٹ فرحانہ نے بتایا کہ مقامی عدالت نے اس کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی تھی۔جب معاملہ ہائی کورٹ کے نوٹس میں آیا تو بنچ نے حکام کے رویے پر گہری تشویش ظاہر کی اور وکیل سے فوری طور پر ضمانت کی درخواست دائر کرنے کو کہا۔طویل سماعت کے بعد بنچ نے طالبہ کو فوری ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا، یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ اسے گرفتار نہیں کیا جانا چاہیے تھا کیونکہ اس نے پوسٹ کو فوری طور پر حذف کر دیا تھا اور معافی بھی مانگی تھی۔