کے سی آر سروے میںشامل ہوں گے، بی سی قائدین کے ساتھ تلنگانہ بھون میں اجلاس
حیدرآباد۔/9فروری، ( سیاست نیوز) بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ کے ٹی راما راؤ نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ حکومت کا طبقاتی سروے خامیوں سے پُر ہے۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کا پتہ چلانے کیلئے دوبارہ جامع طبقاتی سروے کا حکومت سے مطالبہ کیا۔ کے ٹی آر نے اعلان کیا کہ اگر حکومت دوبارہ طبقاتی سروے کا اہتمام کرتی ہے تو بی آر ایس کے سربراہ کے سی آر اور وہ خود بھی دیگر قائدین کے ساتھ سروے میں شامل ہوں گے۔ کے ٹی آر نے تلنگانہ بھون میں بی سی طبقات کے قائدین کے ساتھ اجلاس منعقد کیا اور طبقاتی سروے میں مبینہ کوتاہیوں اور خامیوں کا جائزہ لیا گیا۔ قانون ساز کونسل میں قائد اپوزیشن مدھو سدن چاری اور ارکان اسمبلی کے ہمراہ میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کے ٹی آر نے چیف منسٹر سے مطالبہ کیا کہ وہ پسماندہ طبقات سے معذرت خواہی کریں کیونکہ سروے کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی حقیقی آبادی کو کم کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس دور حکومت کے جامع سروے میں بی سی طبقات کی آبادی 51 فیصد درج کی گئی تھی لیکن کانگریس حکومت کے سروے میں 46 فیصد دکھاتے ہوئے پسماندہ طبقات سے ناانصافی کی گئی۔ بی آر ایس پارٹی پسماندہ طبقات سے انصاف کے مسئلہ کو عوام سے رجوع کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ سروے کے نام پر پسماندہ طبقات کے ساتھ دھوکہ کیا گیا اور مجالس مقامی میں 42 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ سے انحراف کیا گیا۔ کے ٹی آر نے کہا کہ کونسل میں مدھو سدن چاری اور اسمبلی میں سرینواس یادو نے ناانصافیوں کو اجاگر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پسماندہ طبقات میں بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ دوبارہ سروے کی مانگ کررہے ہیں۔ کے ٹی آر نے کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیمات جیسے راشن کارڈ اور ہاؤزنگ میں پسماندہ طبقات کی تعداد کو گھٹانے کی سازش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر دور حکومت میں جامع بی سی سروے میں تمام طبقات کی آبادی کا تعین کیا گیا تھا۔ کانگریس نے بی سی طبقات کو 42 فیصد تحفظات کیلئے ڈیکلریشن جاری کیا تھا لیکن حکومت کے 15 ماہ گذرنے کے باوجود ڈیکلریشن پر عمل نہیں کیا گیا ہے۔ کے ٹی آر نے کہا کہ طبقاتی سروے کے نام پر عوام کو گمراہ کیا جارہا ہے۔ بی آر ایس نے بی سی طبقات کو اسمبلی، پارلیمنٹ اور مجالس مقامی کے انتخابات میں نمائندگی دی تھی۔ اسمبلی انتخابات میں34 بی سی امیدواروں کو ٹکٹ دیا گیا تھا جبکہ کانگریس نے صرف 19 بی سی قائدین کو اسمبلی چناؤ میں ٹکٹ دیا جن میں سے 5 پرانے شہر کے حلقہ جات کے امیدوار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کل 10 فروری سے ریاست کے تمام منڈلس اور گاؤں میں عوام کو حکومت کی دھوکہ دہی سے واقف کرانے کیلئے مہم شروع کی جائے گی۔1