طلبہ جہدکار نتاشا، دیوانگتا اور آصف تہاڑ جیل سے رہا

,

   

دہلی فساد کیس میں سپریم کورٹ کی ہدایت پر عمل۔تینوں ملزمین کے رہائشی پتوں کی تصدیق کی گئی

نئی دہلی : دہلی کی ایک عدالت نے جمعرات کو شمالی دہلی فسادات کے ملزم طالب علموں اور کارکنوں دیونگنا کلیتا، نتاشا نروال اور آصف اقبال کو جیل سے رہا کرنے کا حکم دیا۔ جسٹس سدھارتھ مردول اور انوپ جے رام کی بنچ نے سماعت 1530 بجے تک ملتوی کرتے ہوئے کہا کہ وہ پولیس کی درخواست پر ٹرائل کورٹ کے حکم کا انتظار کرے گی اور تصدیق کے لئے مزید وقت طلب کیا گیاتھا۔دہلی پولیس نے ملزموں کے پتے اور ضامنوں کی تصدیق کے لئے وقت طلب کرنے کے بعد بدھ کو کڑکڑڈوما عدالت کے ایڈیشنل سیشن جج رویندر بیدی نے ان کی رہائی ملتوی کردی تھی۔ پولیس نے کہا تھا کہ اسٹوڈنٹس کارکن نتاشا ، دیوانگنا اور آصف کے مستقل رہائشی پتوں کی رہائی سے قبل تصدیق کرنے کی ضرورت ہے ۔ دہلی پولیس نے عدالت کے روبرو دائر درخواست میں کہا کہ تمام ملزمان کے ’بیرونی مستقل پتہ‘ کی توثیق زیر التوا ہے اور وقت کی کمی کی وجہ سے مکمل نہیں کیا جاسکتا۔ پولیس نے یو آئی ڈی اے آئی کو ضامنوں کے آدھار کارڈ کی تفصیلات کی تصدیق کرنے کے لئے بھی ہدایت دینے کا بھی مطالبہ کیا۔ دیوانگنا اور نتاشا کے وکیل نے کل ہائیکورٹ کے ذریعہ ان کے مؤکلوں کی ضمانت منظور ہونے کے بعد ان کی فوری رہائی کے لئے عدالت میں رجوع کیا تھا ، جس کے بعد عدالت نے توثیقی رپورٹس طلب کی تھی۔ اسٹوڈنٹس نے آج صبح یہ دلیل دیتے ہوئے دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا کہ دو دن قبل ضمانت منظور ہونے کے باوجود ٹرائل کورٹ کے ذریعہ حکم پاس کرنے میں تاخیر ان کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے ۔ دہلی ہائی کورٹ نے 15 جون کو تینوں ملزموں کی ضمانت منظور کی تھی۔ عدالت نے حکومت پر احتجاج کرنے کے آئینی حق اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے مابین فرق کو دھندلا کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ عدالت نے کہا کہ “ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں ، ایسا لگتا ہے کہ احتجاج کو دبانے اور معاملے کو ہاتھ سے نہیں نکلنے دینے کی حکومت کی کوششون کے درمیان مظاہرہ کرنے کے آئینی حق اور دہشت گردی کی سرگرمیوں کے درمیان فرق دھندلا ہوتا جارہا ہے ۔ اگر اس سوچ کی حوصلہ افزائی کی گئی تو جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی۔ دریں اثنا ، دہلی پولیس نے ان طلبہ کارکنوں کو ضمانت دینے کے دہلی ہائی کورٹ کے حکم کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ کا رخ کیا۔ تینوں پر گذشتہ برس شمال مشرقی دہلی فسادات میں مبینہ طور پر ’’پہلے سے منصوبہ بند سازش‘‘ کے الزام میں سخت غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے ) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔