سنبھل جامع مسجد اور اجمیرشریف کیخلاف عدالتوں میں درخواست کی مذمت، جناب محمد سلیم کا بیان
حیدرآباد۔یکم؍ ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سابق صدرنشین تلنگانہ وقف بورڈ اور بی آر ایس کے سینئر لیڈر جناب محمد سلیم نے ملک میں عبادت گاہوں اور درگاہوں کو فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے نشانہ بنانے کے واقعات پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سنبھل کی جامع مسجد کے سروے کے نام پر تشدد اور اجمیر شریف درگاہ کو نشانہ بنانے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ مرکز میں نریندر مودی حکومت برسراقتدار آنے کے بعد سے فرقہ پرست طاقتیں بے لگام ہوچکی ہیں۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد منصوبہ بند طریقہ سے دیگر مساجد کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مساجد کو مندر قرار دینے کی سازش کا مقصد ملک میں فرقہ وارانہ کشیدگی کو ہوا دینا ہے تاکہ بی جے پی کو سیاسی فائدہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ متھرا اور کاشی میں مسجد اور عید گاہ کو مندر قرار دیتے ہوئے آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا عہدیداروں نے عدالت کے حکم پر سروے کا آغاز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اُتر پردیش کے سنبھل میں جامع مسجد کو جس انداز میں نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ عدالت نے فریق ثانی کی سماعت کے بغیر ہی سروے کا حکم دیا اور محض چند گھنٹوں میں سروے کا کام شروع کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ فرقہ پرست طاقتوں کو کھلی چھوٹ مل چکی ہے اور وہ بی جے پی زیر اقتدار ریاستوں میں مساجد کو نشانہ بنارہے ہیں۔ اجمیر شریف کی درگاہ کو مندر قرار دینے کی سازش کی مذمت کرتے ہوئے جناب محمد سلیم نے کہا کہ 850 سال سے حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ کی درگاہ شریف موجود ہے لیکن اسے مندر قرار دیتے ہوئے عدالت میں مقدمہ درج کیا گیا جس کی آئندہ ماہ سماعت مقرر ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف جسٹس آف انڈیا کو چاہیئے کہ وہ تمام عدالتوں کو ہدایات جاری کریں کہ مساجد اور درگاہوں کے خلاف دائر کی جارہی درخواستوں کو قبول نہ کریں کیونکہ اس سے فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کروڑہا معتقدین اجمیر شریف کی زیارت کیلئے آتے ہیں۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے ہر سال عرس کے موقع پر خصوصی چادر روانہ کی جاتی ہے۔ جناب محمد سلیم نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا کہ وہ مساجد اور درگاہوں کے خلاف مقدمات پر لب کشائی کرتے ہوئے مذمت کریں تاکہ عوام کو یہ پیام دیا جاسکے کہ حکومت سیکولر اور جمہوری اصولوں پر قائم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے عوام کو فرقہ پرست طاقتوں کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کی مذمت کرنی چاہیئے تاکہ حوصلہ شکنی ہو۔1