عثمانیہ ہاسپٹل کی موجودہ عمارت میں ہاسپٹل چلانے کی گنجائش نہیں

   

ہائی کورٹ میں ماہرین کی کمیٹی کا حوالہ، ہیری ٹیج عمارت کا تحفظ کرنے بیشتر درخواست گذاروں کی اپیل
حیدرآباد۔/31 جولائی ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے ہائی کورٹ کو واقف کرایا ہے کہ عثمانیہ ہاسپٹل کی عمارت کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے قائم کردہ ماہرین کی دو کمیٹیوں نے واضح کردیا ہے کہ موجودہ ہیری ٹیج عمارت میں ہاسپٹل کو چلانا ممکن نہیں ہے۔ چیف جسٹس الوک ارادھے اور جسٹس انیل کمار پر مشتمل بنچ پر ایڈوکیٹ جنرل سدرشن ریڈی نے کہا کہ حکومت کو موجودہ ہیری ٹیج عمارت کے بارے میں عدالت کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ ہیری ٹیج عمارت کے تحفظ کیلئے ہائی کورٹ میں مفاد عامہ کی کئی درخواستیں زیر التواء ہیں۔ بعض درخواست گذاروں نے 100 سالہ قدیم عمارت کے تحفظ اور اسے تزئین نو کے ذریعہ قابل استعمال بنانے کی اپیل کی ہے جبکہ دیگر درخواست گذاروں نے عصری ہاسپٹل کامپلکس کی تعمیر کیلئے موجودہ عمارت کو منہدم کرنے کی وکالت کی ہے۔ ایڈوکیٹ جنرل نے بتایا کہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل ایک ٹیچنگ کالج ہے جہاں بستروں کی تعداد 1800 ہے لیکن عمارت کی خستہ حالی کے سبب بستروں کو 1000 تک محدود کردیا گیا ہے۔ ریاستی حکومت نے نئی عمارت کی تعمیر کیلئے فنڈز مختص کئے ہیں اور ہائی کورٹ کے فیصلہ کا انتظار ہے۔ عمارت کے تحفظ کی وکالت کرنے والے وکیل نے کہا کہ ریاستی حکومت نے جب ماہرین کی کمیٹی مقرر کی تو اس نے عمارت کے انہدام کی سفارش کی۔ ہائی کورٹ نے آئی آئی ٹی اور آرکیالوجیکل سروے آف انڈیا کے دو ماہرین کو کمیٹی میں شامل کیا۔ آزادانہ کمیٹی نے ہیری ٹیج عمارت کے تحفظ کی سفارش کی تھی۔ اگر ریاستی حکومت نیا ہاسپٹل تعمیر کرنا چاہتی ہے تو وہ تاریخی عمارت کو نقصان پہنچائے بغیر متصل اراضی پر تعمیر کرسکتی ہے۔ اس مرحلہ پر ایڈوکیٹ جنرل نے کہاکہ آزادانہ کمیٹی نے بھی واضح کردیا کہ قدیم عمارت میں ہاسپٹل نہیں چلایا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نئی عمارت کی تعمیر کیلئے تیار ہے۔ ہائی کورٹ نے آئندہ سماعت 12 فروری کو مقرر کی ہے۔1