Wednesday , December 2 2020

عدالت کی جانب سے مرکز کی سرزنش…

پھر آشیاں بنائیں گے کس آسرے پہ ہم
قیدِ قفس سے ہو کے رِہا سوچتے رہے
…عدالت کی جانب سے مرکز کی سرزنش
ملک کی عدالت عظمی سپریم کورٹ نے آج مرکزی حکومت کی سرزنش کی ہے ۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ حالیہ وقتوں میں اظہار خیال کی آزادی کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں اور حکومت کو اس کا بہانہ لیتے ہوئے فرقہ واریت پھیلانے والے نیوز چینلوں کے خلاف کارروائی کی گنجائش نکلتی ہے ۔ عدالت نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ اب تک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو متاثر کرنے والے نیوز چینلوں کے خلاف کی گئی کارروائی اور اقدامات سے بھی واقف کروائے اور اس تعلق سے حلفنامہ کسی محکمہ کے سکریٹری رتبہ کے عہدیدار کی جانب سے عدالت میں پیش کیا جائے ۔ سارا معاملہ کورونا وباء کے پھیلاو کو تبلیغی جماعت کے اجتماع سے جوڑنے کی خبروں سے متعلق ہے ۔ ایسی خبروں کے خلاف مسلم تنظیموں کی جانب سے عدالت میںدرخواستیں دائر کی گئی تھیں جن کی آج چیف جسٹس ‘ جسٹس ایس اے بوبڈے کی قیادت والی بنچ نے سماعت کی ۔ عدالت نے ایک جونئیر عہدیدار کی جانب سے حلفنامہ داخل کرنے پر بھی ناراضگی کا اظہار کیا اور کہا کہ عدالت سے وہ رویہ اختیار نہیں کیا جاسکتا جو مرکز نے اختیار کیا ہے ۔ علاوہ ازیں مرکزی حکومت اس معاملے میں خود پہلوتہی کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور ایسا نہیں ہونا چاہئے ۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ حلفنامہ میں ایک جونئیر عہدیدار نے کہا کہ درخواست گذار اس غیر ضروری مسئلہ کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا چاہتے ہیں اور نیوز چینلوں نے جو رپورٹس دکھائی ہیں وہ اظہار خیال کی آزادی ہے ۔ سپریم کورٹ نے اپنے ریمارکس میں ایک طرح سے طنز کرتے ہوئے کہا کہ اظہار خیال کی آزادی کی حالیہ وقتوں میں کئی مواقع پر سنگین خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ حکومت کو اس معاملے میں پہلوتہی سے کام نہیں لینا چاہئے بلکہ ایک جامع ‘ ذمہ دارانہ اور موثر جواب داخل کرنے کی ضرورت ہے ۔ عدالت نے 7 اگسٹ کو داخل کردہ اپنے حلفنامہ میں کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کے شرکاء میں کورونا کا پھیلنا اور کچھ گوشوں کی جانب سے ہیلت ورکرس پر حملے کرنا حقائق پر مبنی ہیں اور حقائق پر مبنی رپورٹنگ اور خبروں کو روکا نہیں جاسکتا ۔
مرکزی حکومت نے در اصل اپنے حلفنامہ کے ذریعہ فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے والے نیوز چینلوں کی حمایت کی تھی اور ان کی مدافعت کی گئی تھی حالانکہ اس سے قبل بھی اورنگ آباد ہائیکورٹ نے بھی واضح طور پر کہا تھا کہ تبلیغی جماعت کے ارکان کو کورونا کے پھیلاو کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے بلی کا بکرا بنایا گیا تھا اور کسی وباء کے پھیلنے کیلئے کسی مخصوص طبقہ کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ عدالت میں حکومت نے جو حلفنامہ پیش کیا تھا اس سے خود حکومت کے ارادے اور اس کی نیت واضح ہوگئی تھی ۔ اب جبکہ ہندوستان ساری دنیا میں کورونا کے پھیلاو میں دوسرے نمبر پر پہونچ گیا ہے اور آج بھی ہزاروں افراد یومیہ اس وائرس کا شکار ہور ہے ہیں حکومت سنجیدگی سے وائرس کی روک تھام اور اس پر قابو پانے کے اقدامات کرنے کی بجائے اس کے پھیلاو کیلئے تبلیغی جماعت کو ذمہ دار قرار دیتے ہوئے فرقہ پرستوں کے ایجنڈہ اور ان کے منصوبوں کی بالواسطہ نہیں بلکہ راست تائید کر رہی ہے ۔ حکومت کے کسی ایک گوشے نے نہیں بلکہ ایک عہدیدار کی جانب سے عدالت میں پیش کردہ حلفنامہ میں یہ بات کہتے ہوئے خود حکومت نے واضح کردیا ہے کہ وہ ملک میں فرقہ وارانہ منافرت پھیلانے کے اس کھیل میں نیوز چینلوں کے ساتھ برابر کی ذمہ دار ہے اور نیوز چینلوں کی جانب سے پھیلائی جانے والی منافرت اس کے اپنے منصوبوں کا بھی حصہ ہے ۔ حکومت کا یہ حلفنامہ اس کے حقیقی عزائم اور منصوبوں کو ظاہر کرنے کیلئے کافی ہے ۔
آج سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران جس طرح سے مرکز کی عملا سرزنش کی گئی ہے اس سے کم از کم حکومت کی آنکھیں کھل جانی چاہئیں ۔ حکومت کو کم از کم اب ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور اسے اپنی ترجیحات اور منصوبوں میں ترمیم کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا بہر قیمت تحفظ کیا جانا چاہئے اور اس ہم آہنگی کو متاثر کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہونچانا چاہئے ۔ ان کے خلاف مقدمات درج ہونے چاہئیں۔ انہیں عدالت کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا جانا چاہئے ۔ چند مٹھی بھر مفاد پرستوں کو سارے ملک کی فضاء خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہئے ۔ حکومت کو خود بھی ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی اہمیت اور افادیت کو سمجھنے اور اس کو برقرار رکھنے کی ضرورت ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT