عدالت کے فیصلہ سے پہلو خان کے خاندان پر سکتہ طاری

   

قانون پر بھروسہ نہیں رہا، ملزمین کی برات پر متاثرین کا شدید ردعمل

نئی دہلی 15 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں ہجومی تشدد کے 100 سے زائد واقعات پیش آچکے ہیں اور دادری میں 2015 ء کو عین بقرعید کے دن ہجومی تشدد میں 52 سالہ محمد اخلاق کو شہید کیا گیا۔ ناپاک سیاسی مفادات کی تکمیل کے لئے ایک منصوبہ بند سازش کے تحت پہلے اخلاق پر گائے ذبح کرنے کا جھوٹا الزام عائد کیا گیا اور پھر اسی بہانے سے گاؤ رکھشکوں کے نام پر تشکیل دی گئی غنڈوں کی ٹولی نے محمد اخلاق کے گھر پر حملہ کردیا جس میں محمد اخلاق شہید اور ان کا جواں سال بیٹا شدید زخمی ہوا۔ گھر کو بھی لوٹ لیا گیا۔ محمد اخلاق سے لے کر جھارکھنڈ کے تبریز انصاری کی شہادت نے ملک میں خاص طور پر مسلمانوں میں خوف کی ایک لہر پیدا کرنے کی شائد ایک ناکام کوشش ہے۔ جہاں تک گاؤ رکھشکوں کی غنڈہ گردی حکومت اور پولیس کی ناکامی و خاموشی کا سوال ہے اس کا منہ بولتا ثبوت راجستھان میں 2017 ء کو پیش آیا ہجومی تشدد کا وہ واقعہ ہے جس میں ڈیری فارم چلانے والے پہلو خان کی موت واقع ہوئی۔ پہلو خان کو ہجوم نے بُری طرح مار مار کر ہلاک کیا اور اُس ظلم و بربریت کے ویڈیو بھی وائرل ہوئے جس میں غنڈوں کو میوات ہریانہ کے رہنے والے پہلو خان کو شدید زدوکوب کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ لیکن پولیس کی جانبداری اور تعصب کے نتیجہ میں ملزمین کو تحت کی ایک عدالت نے بری کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ پولیس نے قاتلوں کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پہلو خان اور ان کے بیٹوں کے خلاف مقدمات درج کئے۔ اسے راجستھان پولیس کی فرض شناسی اور بہادری ہی کہا جاسکتا۔ عدالت کے فیصلہ پر پہلو خان شہید کے ارکان خاندان بالخصوص ضعیف ماں انگوری بیگم میں شدید مایوسی پائی جاتی ہے۔ اس ضمن میں پہلو خان کے بیٹے ارشاد خان کہتے ہیں کہ ایک طرف وہ لوگ جنھوں نے ہمارے والد کو بیدردانہ انداز میں قتل کیا وہ آزاد گھوم رہے ہیں اور دوسری طرف میرا خاندان ہمارے خلاف مقدمہ کے نتیجہ میں ایک صدمہ سے گزر رہا ہے۔

ارشاد خان کہتے ہیں کہ وہ جن حالات سے گزر رہے ہیں اسے بیان کرنے ان کے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ عدالت کے اس فیصلہ پر جن 6 ملزمین کو بری کردیا گیا ہے پہلو خان مرحوم کا خاندان صدمہ سے دوچار ہوگیا ہے۔ پہلو خان کے بڑے بیٹے ارشاد خان نے عدالت کے فیصلہ پر ردعمل کا اظہار کتے ہوئے کہاکہ قانون پر سے ہمارا بھروسہ اُٹھ چکا ہے۔ پچھلے ڈھائی برسوں سے ہم انصاف کا انتظار کررہے تھے۔ ہم نے سوچا تھا کہ ہمارے ساتھ انصاف کیا جائے گا اور جس سے میرے مرحوم والد کی روح کو اطمینان ہوگا لیکن عدالت کے فیصلہ سے ہماری اُمیدیں بکھر گئی ہیں۔ ارشاد کے مطابق وہ عدالت کے فیصلہ پر حیران ہیں۔ ہمارے پاس یہ ثابت کرنے کے لئے تمام ثبوت و شواہد موجود تھے کہ پہلو خان کو ہجومی تشدد نے پیٹ پیٹ کر مار ڈالا۔ پولیس نے بھی تمام ضروری شواہد جمع کئے جن میں پوسٹ مارٹم رپورٹ بھی شامل ہے۔ جس وقت مقدمہ کا فیصلہ سنایا گیا الوار عدالت میں 27 سالہ ارشاد خان کے خاندان کا کوئی رکن موجود نہیں تھا۔ ان کے وکیل قاسم خان بھی حیران ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں پختہ یقین تھا کہ خاطیوں کو سزا ملے گی۔ اب وہ فیصلہ کے خلاف ہائیکورٹ سے رجوع ہونے کی تیاریاں کرہے ہیں۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جاریہ سال 24 مئی کو راجستھان پولیس نے مقتول پہلو خان اور ان کے دو فرزندان ارشاد اور عارف خان کے خلاف جانوروں کی اسمگلنگ کے الزامات عائد کرتے ہوئے چارج شیٹ پیش کی۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ ہمارے ملک میں قانون کا مذاق اُڑایا جارہا ہے۔