ریاض: ریاض میں پیر کو سعودی عرب کے زیرِ صدارت عرب سائبر سکیورٹی کی وزراء کونسل کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا جس میں نیشنل سائبر سکیورٹی اتھارٹی کے گورنر ماجد المزید نے سعودیہ کی نمائندگی کی۔شرکاء میں عرب لیگ کے رکن ممالک میں سائبر سکیورٹی کے ذمہ دار سینئر حکام اور وزراء کے ساتھ ساتھ تنظیم کے سیکریٹری جنرل احمد ابو الغیط بھی شامل تھے۔سعودی پریس ایجنسی کی خبر کے مطابق المزید نے اپنی ابتدائی تقریر میں سائبر سکیورٹی کے شعبے میں تعاون کے ذریعے عرب سکیورٹی کے فروغ کیلئے مملکت کے عزم پر زور دیا۔انہوں نے مزید کہا کہ کونسل کے قیام کا سبب بننے والی سعودی تجویز کی بنیادیں خطے کے اہم مفادات کے تحفظ اور عرب ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے نظریئے پر مبنی تھیں۔المزید نے کہا کہ سائبر سکیورٹی نہ صرف قومی سلامتی کا ایک ستون ہے بلکہ پوری عرب دنیا میں خوشحالی، ترقی اور استحکام کو یقینی بنانے کیلئے ضروری ہے۔انہوں نے مزید کہا، “اس کونسل کے قیام کیلئے عرب رہنماؤں کی حمایت اس بات کی واضح توثیق ہے کہ ہمارے ممالک کے ایک محفوظ اور خوشحال مستقبل کیلئے سائبر سکیورٹی اہمیت کی حامل ہے۔”المزید نے عرب تعاون کو فروغ دینے اور علاقائی سلامتی کو بہتر بنانے کیلئے شاہ سلمان اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی حمایت اور رہنمائی کا شکریہ ادا کیا۔ابو الغیط نے اس بات کی اہمیت کے احساس پر زور دیا جو سائبر سکیورٹی سے متعلق مشترکہ عرب کوششوں کو مضبوط کرنے کیلئے ضروری ہے بالخصوص ابھرتے ہوئے عالمی خطرات اور چیلنجز کے تناظر میں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں سائبر سکیورٹی کے ایک لچکدار اور محفوظ لائحہ عمل کی تعمیر کیلئے اجتماعی کارروائی کلیدی اہمیت کی حامل ہو گی۔
انہوں نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ کونسل عرب قومی سلامتی کے نظام میں ایک اہم اضافہ ثابت ہو گی اور اس اقدام کا آغاز کرنے میں سعودی عرب کی قیادت کی تعریف کی۔کونسل نے رکن ممالک کی طرف سے جمع کرائے گئے ابتدائی نوعیت کے متعدد تحقیقی مقالات کا جائزہ لیا اور افتتاحی اجلاس کے دوران کئی اہم فیصلے کیے۔