عصمت ریزی کیس میں ترون تیج پال کو 10 سال قید

,

   

بامبے ہائی کورٹ نے فیصلہ پلٹ دیا ، سپریم کورٹ میں چیالنج کرنے کا اعلان

ممبئی ۔6؍اگست ( ایجنسیز )بامبے ہائی کورٹ نے نیوزمیگزین تہلکہ کے سابق ایڈیٹرترون تیج پال کو2013 میں ایک جونیئر ساتھی کی عصمت ریزی کا مجرم قراردیا۔ عدالت نے انہیں 10 سال قید کی سزا سنائی ہے۔ گوا پولیس کی جانچ افسر سنیتا ساونت نے بتا یاکہ انہیں 10 سال کی قید کی سزا اور 5 لاکھ روپئے کے جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ بامبے ہائی کورٹ نے گوا کی نچلی عدالت کے تیج پال کو بری کرنے کے 2021کے فیصلے کوپلٹتے ہوئے انہیں قصوروارقراردیا۔ اس فیصلے کے بعد انہوں نے کہا کہ وہ یقینی طورپرسپریم کورٹ جائیں گے۔ترون تیج پال نے کہاکہ سیاسی بدلے کے جذبے اور’تہلکہ’ کے کام کی وجہ سے وہ میرے پیچھے پڑے ہیں۔ ہم نے ٹرائل کورٹ میں 7.5 سال تک کیس لڑا اوربری ہوگئے۔ جولوگ ان کے ساتھ ہیں وہ بری ہوجاتے ہیں لیکن وہ ان کے پیچھے پڑتے ہیں جنہوں نے ان کے خلاف لکھا ہے۔بامبے ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کے بری کیے جانے کے فیصلہ کو پلٹ دیا اورگوا حکومت کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے تیج پال کو قصوروار ٹھہرایا ہے۔ فیصلہ سنائے جانے کے وقت ترون تیج پال عدالت میں موجود تھے کیونکہ بنچ نے فیصلہ محفوظ کرتے وقت انہیں حکم دیا تھا کہ وہ فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر عدالت میں حاضر رہیں۔ ترون تیج پال نے کہا کہ میری عمر 62 سال ہے اور میرا ماننا ہے کہ میں بھی ایک متاثرہ شخص ہوں۔ میری بیوی ہے اور اس سے زیادہ کہنے کو کچھ نہیں۔ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ ہم اپیل کر سکتے ہیں۔تیج پال پر میگزین کی ایک تقریب کے موقع پر فائیو اسٹار ہوٹل کی لفٹ میں جونیر ساتھی کی عصمت ریزی کا الزام تھا۔ترون تیج پال نے سزا کے فیصلہ کو مایوس کن قرار دیا اور کہا کہ وہ سپریم کورٹ میں فیصلے کو چیلنج کریں گے۔