انقرہ: ترک صدر رجب طیب اردغان علالت کی وجہ سے دو دن کی غیر حاضری کے بعد جمعرات کو سامنے آگئے۔ انہوں نے اپنے روسی ہم منصب ولادیمیر پوٹین کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعہ بات چیت کی۔69 سالہ ترک صدراردغان روس کی طرف سے بنائے گئے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے افتتاح کیلئے آن لائن تقریب کے دوران اپنی میز کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے اور ان کی آنکھیں پیلی نظر آئیں۔ وہ قدرے نحیف دکھائی دے رہے تھے۔ اردغان نے براہ راست نشریات کے دوران صحت کی خرابی کے باعث اپنی چہارشنبہ کی انتخابی سرگرمیاں منسوخ کر دی تھیں۔ اسوسی ایٹیڈ پریس کے مطابق ترک حکام نے انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ان افواہوں کی تردید کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اردغان شدید بیماری میں مبتلا ہیں اور انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا ہے۔ترک ایوان صدر کے میڈیا اہلکار فخر الدین التون نے ٹویٹر پر بتایا کہ ہم صدر اردغان کی صحت کے حوالہ سے ایسے بے بنیاد الزامات کو واضح طور پر مسترد کرتے ہیں۔ حکمراں جماعت کے ایک اور اہم رکن عمر جلیک نے لکھا کہ ہمارے صدر اب بھی اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وہ مختصر آرام کے بعد اپنا پروگرام جاری رکھیں گے۔