عوامی سماعت کے تحت گاندھی بھون میں ریاستی وزیر سیتکا نے مسائل کی سماعت کی

   

ضلع کلکٹرس اور عہدیداروں سے ربط، فلاحی اسکیمات میں مستحق خاندانوں کی حصہ داری کا تیقن
حیدرآباد: 15 اکٹوبر (سیاست نیوز) کانگریس ہیڈ کوارٹر گاندھی بھون میں ریاستی وزراء کی جانب سے عوامی سماعت کے پروگرام کے تحت وزیر پنچایت راج ڈی اناسویا سیتکا نے آج تقریباً 3 گھنٹوں تک عوام سے ملاقات کی اور ان کی تحریری یادداشتوں کو قبول کیا۔ صدر ضلع کانگریس کمیٹی خیریت آباد روہن ریڈی اور دیگر قائدین کے ہمراہ ریاستی وزیر نے نمائندگی کے لیے پہونچنے والے افراد اور پارٹی کارکنوں سے ملاقات کی۔ انہوں نے ضلع کلکٹرس سے ربط قائم کرتے ہوئے مسائل کی یکسوئی پر توجہ دلائی۔ سیتکا نے عوام کو تیقن دیا کہ وہ ان کی درخواستوں کو متعلقہ محکمہ جات سے رجوع کریں گی۔ ریاستی وزیر نے کئی اعلی عہدیداروں کو فون پر ہدایات جاری کرتے ہوئے موصولہ شکایتوں سے واقف کرایا۔ ریاستی وزیر کی آمد کے موقع پر گاندھی بھون میں عوام اور کارکنوں کی کثیر تعداد موجود تھی۔ ریاستی وزیر نے قبائیلی علاقوں سے تعلق رکھنے والی عوام کو تیقن دیا کہ وہ اراضیات کے تحفظ کے لیے عہدیداروں کو ہدایات دیں گی۔ اندراماں ہائوزنگ کے تحت مکانات کے الاٹمنٹ، نئے آنگن واڑی سنٹرس، اندراماں کمیٹیوں میں کانگریس کو نمائندگی، ڈی ایس سی کے اہل امیدواروں کے تقررات کے علاوہ راشن کارڈس اور دیگر سرکاری اسکیمات کے لیے درخواستیں داخل کی گئی۔ بی آر ایس دور حکومت میں مقدمات کا سامنا کرنے والے قائدین بھی ریاستی وزیر سے رجوع ہوئے۔ ریاستی وزیر نے کہا کہ بی آر ایس میں 10 سالہ اقتدار میں نوجوانوں اور بے روزگاروں سے دھوکہ کیا ہے۔ کانگریس نے برسر اقتدار آتے ہی 60 دن میں 30 ہزار جائیدادوں پر تقررات کے احکامات جاری کئے۔ دو ماہ میں ڈی ایس سی کی تکمیل کرتے ہوئے 11 ہزار اساتذہ کے تقررات کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابی وعدوں کی تکمیل میں تلنگانہ حکومت ملک میں امتیازی مقام رکھتی ہے۔ سیتکا نے کانگریس کارکنوں کو تیقن دیا کہ نامزد عہدوں میں ان کے ساتھ انصاف کیا جائے گا۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے ریاستی وزیر نے بی آر ایس قائدین پر الزام عائد کیا کہ وہ ترقیاتی پراجیکٹس میں رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ 10 برسوں می عوام مسائل کو نظرانداز کرنے والے قائدین آج مگرمچھ کے آنسو بہا رہے ہیں۔ سیتکا نے کہا کہ بی جے پی ناتھو رام گوڈسے کے نظریات پر عمل پیرا ہے جبکہ کانگریس نے ہمیشہ گاندھیائی نظریات پر عمل کیا ہے۔ سماعت کے دوران جملہ 160 درخواستیں موصول ہوئیں۔ کلکٹرس سے متعلق 35، پنچایت راج 41، اندراماں انڈلو 29 اور دیگر محکمہ جات کی 48 درخواستیں موصول ہوئیں۔ 1