عوام پر مہنگائی کی مار ، خوردنی تیل کی قیمتوں میں اضافہ

   

درآمدات میں کمی کا اثر ، سورج مکھی اور مونگ پھلی کا تیل مہنگا

حیدرآباد ۔ 22 ۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) تلنگانہ بالخصوص حیدرآباد میں کھانا پکانے کے تیل کی قیمتوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس نے عام آدمی کے گھریلو بجٹ کو بری طرح متاثر کیا ہے ۔ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران خوردنی تیل کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہی ہیں جس کے باعث صارفین میں تشویش پائی جارہی ہے ۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق سورج مکھی ( سن فلور ) کے تیل اور مونگ پھلی کے تیل کی قیمتوں میں 15 سے 25 روپئے فی لیٹر تک اضافہ ہوا ہے ۔ دو ہفتے قبل 175 سے 185 روپئے فی لیٹر دستیاب سن فلور کا تیل اب مزید مہنگا ہوچکا ہے جبکہ مونگ پھلی کا تیل 180 روپئے سے بڑھ کر تقریبا 220 روپئے فی لیٹر تک پہونچ گیا ہے ۔ ہول سیل مارکیٹ میں 10 سے 15 روپئے کے اضافے کا اثر ریٹیل سطح پر 20 سے 25 روپئے تک دیکھنے میں آیا ہے ۔ تاجروں کے مطابق قیمتوں میں اضافے کی بنیادی وجہ خام مال کی درآمد میں رکاوٹیں اور عالمی مارکٹ میں سپلائی کی کمی ہے ۔ پام آئیل اور سورج مکھی کے تیل کا خام مال زیادہ تر تھائی لینڈ ، آسٹریلیا اور دیگر ممالک سے درآمد کیا جاتا ہے ۔ جسے ریفائن کرنے کے بعد مقامی مارکٹ میں فروخت کیا جاتا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تلنگانہ میں خوردنی تیل کی کھپت ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلے میں زیادہ ہے ۔ خاص طور پر حیدرآباد جیسے بڑے شہر میں روزانہ بھاری مقدار میں تیل استعمال ہوتا ہے جس میں ہوٹلوں ، کلبوں اور بازار کا بڑا حصہ شامل ہے ۔ شہریوں میں سن فلور کا تیل سب سے زیادہ مقبول ہے ۔ جب کہ مونگ پھلی اور دیگر تیل بھی بڑے پیمانے پر استعمال ہوتے ہیں ۔ تاجروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر درآمدی مسائل جلد حل نہ ہوئے تو قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے جس سے عوامی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگا ۔ 2/m/b