عوام کو ہوش کب آئیگا

   

ہوش میں آئوں تو سوچوں ابھی دیکھا کیا ہے
یہ پوچھوں کہ یہ پردہ ہے تو جلوہ کیا ہے
عوام کو ہوش کب آئیگا
مرکزی حکومت فیول قیمتوںمیںروزآنہ اضافہ کرتے ہوئے عوام کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔ گذشتہ پندرہ دنوں میںتیرہ مرتبہ فیول کی قیمتیں بڑھائی گئی ہیں۔ حکومت مسلسل سرکاری خزانہ بھرنے اور عوام کو لوٹنے اور ان پر بوجھ عائد کرنے میں مصروف ہے ۔ جو قیمتیں بڑھائی جا رہی ہیں ان کا کوئی جواز تک پیش نہیں کیا جا رہا ہے ۔صرف ایک اعلان جاری کرتے ہوئے قیمتوں میںاضافہ کردیا جا رہا ہے ۔ ملک کی اپوزیشن جماعتیں بھی اس مسئلہ پر حیالانکہ احتجاج کر رہ ہیں لیکن یہ احتجاج اس قدر شدت کا نہیں ہے جتنا کیا جانا چاہئے ۔ صرف ضابطہ کی تکمیل کیلئے یہ احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ عوام کی جانب سے جب تک حکومت کے فیصلے اور اقدامات کے خلاف احتجاج نہیں کیا جاتا ‘ عوام سڑکوں پر اتر کر اپنی ناراضگی کا اظہار نہیں کرتے اس وقت تک مرکزی حکومت کو یہ احساس ہونے والا نہیں ہے کہ اس کے فیصلے کے نتیجہ میں عوام کی زندگیاں کس حد تک متاثر ہو رہی ہیں۔ کس حد تک عوام کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے ۔ وہ کس حد تک مشکلات کا شکار ہوگئے ہیں۔ فیول قیمتوں میں اضافہ کے جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں ان کے نتیجہ میں ضروری اشیا کا حصول بھی عام آدمی کیلئے مشکل ہوگیا ہے ۔ فیول کے دام بڑھنے سے حمل و نقل مہنگا ہوگیا ہے ۔ ترکاریوں کی قیمتوں پر اس کا اثر ہونے لگا ہے ۔ ادویات کی قیمتوں میں دس فیصد اضافہ کردیا گیا ہے ۔ دودھ کی قیمتیں مسلسل بڑھائی جا رہی ہیں۔ خوردنی تیل تو عام آدمی کی پہونچ سے ہی باہر ہوگیا ہے ۔ حکومت مسلسل اس پر بھی قیمتیں بڑھانے والوں کو کھلی چھوٹ دیتی جا رہی ہے ۔ ایسے عناصر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے جو من مانی انداز میں قیمتیں بڑھاتے ہوئے عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ حکومت کو شائد ان ہی عناصر سے ہمدردی ہے کیونکہ حکومت بھی فیول قیمتوں کے نام پر عوام کو لوٹ رہی ہے اور اس کے اثرات کے نام پر دوسرے عناصر بھی عوام کو لوٹ رہے ہیں۔ جہاں تک عوام کا مسئلہ ہے وہ خاموشی سے لٹتے جا رہے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہی نہیں ہورہا ہے کہ وہ کس حد تک بوجھ تلے دبتے جا رہے ہیں ۔
حکومت کی جانب سے قیمتوں میںاضافہ کے من مانی جواز دئے جا رہے ہیں۔ بین الاقوامی مارکٹ میں قیمتوں میں اضافہ کا عذر پیش کیا جا رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہندوستان نے امریکہ کی مخالفت کے باوجود روس سے رعایتی داموں پر تیل خریدنا شروع کردیا ہے ۔ بین الاقوامی مارکٹ سے کم قیمت پر روس سے تیل خریدا جا رہا ہے اور اس کے بعد عوام کو مسلسل بوجھ تلے دبایا جا رہا ہے ۔ قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے ان کو لوٹا جا رہا ہے ۔ اس حقیقت کا عوام کو احساس دلانے کی ضرورت ہے ۔ اس بوجھ سے نجات حاصل کرنے کیلئے عوام کو سڑکوںپر اترنے اور جمہوری انداز میں پرامن احتجاج کرنے کی ضرورت ہے ۔ جو بوجھ ان پر عائد کردیا گیا ہے اس سے دستبرداری کیلئے عوام احتجاج کا راستہ اختیار کرسکتے ہیں۔ انہیں اس راستہ سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔ اپوزیشن جماعتوںکو بھی ایک مستحکم جمہوری احتجاج شروع کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہئے ۔ احتجاج کے ذریعہ ہی حکومت کی اس لوٹ کو ختم کیا جاسکتا ہے ۔ اس کو روکا جاسکتا ہے ۔ ہندوستان میں یہ روایت رہی تھی کہ کسی بھی مسئلہ پر اگر عوام کو مشکلات کا سامنا ہوتا یا پھر حکومت کے فیصلے سے ناراضگی ہوتی تو اس کے خلاف احتجاج کیا جاتا ۔ جمہوری طریقہ کار اختیار کیا جاتا اور حکومت کو اپنی شکایات اور ناراضگی سے واقف کروایا جاتا ۔ تاہم اب یہ روایت ایک طرح سے ختم ہوتی جا رہی ہے ۔
اپوزیشن جماعتیں وقفہ وقفہ سے کسی مسئلہ پر احتجاج کر رہی ہیں لیکن اس پر انہیں عوامی تائید نہیں مل پا رہی ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اپوزیشن جماعتیں عوام کو احتجاج کے حق سے واقف کروائیں ۔ انہیں یہ احساس دلائیں کہ حکومت سے خوفزدہ ہونے کی بجائے اپنے احساسات سے حکومت کو واقف کروایا جائے ۔ جمہوری دائرہ کار میںرہتے ہوئے احتجاج کرنا ہر ہندوستانی شہری کا حق ہے اور اس حق کو کوئی چھین نہیں سکتا ۔ حکومت کی جانب سے خوفزدہ کرنے کیلئے کچھ اقدامات ضرور کئے جاسکتے ہیں لیکن مہنگائی اور قیمتوں میںاضافہ کے بوجھ اور لوٹ مار سے بچنا ہے تو پھر احتجاج کا راستہ اختیار کرنا پڑے گا ۔ ورنہ مہنگائی اس حد تک ہوجائے گی کہ عام آدمی کیلئے دو وقت کی روٹی حاصل کرنا بھی مشکل ہوجائے گا ۔