حکومت تلنگانہ کا دعویٰ کھوکھلا ، وزیر داخلہ محمود علی کی پولیس کو ہدایت بے سود ثابت
حیدرآباد :۔ عید الاضحی کے موقع پر بڑے جانوروں کی منتقلی اور تاجرین کے ساتھ پولیس کی ہراسانی تو عام شکایت ہے ۔ تاہم اب بکروں اور مینڈوں کی فروخت بھی شہر میں مشکل ہوگئی ہے ؟ لاک ڈاؤن اور کوویڈ 19 کے سبب تباہ حال مارکٹ اور معیشت کے بعد مارکٹ میں گذشتہ کی بہ نسبت انتہائی کم مقدار میں بکرے اور مینڈے کی منڈیاں لگی ہیں ۔ عید الاضحی کے لیے جانوروں کی فراہمی میں آسانی کے سرکاری دعوے بے بنیاد ثابت ہورہے ہیں۔ بالخصوص وزیر داخلہ کے تیقن اور اعلیٰ پولیس حکام کو دی گئیں ہدایت بھی بے فیض ثابت ہورہی ہیں ۔ اور ان احکامات اور ہدایت کا شہر میں کوئی اثر دکھائی نہیں دیتا بلکہ پولیس کی مبینہ ہراسانی میں اضافہ ہوگیا ہے اب جب کہ عید کے لیے دو دن باقی ہیں ایسے میں بکروں کی فروخت اور تاجرین کو لاحق مشکلات عید کے لیے غیر یقینی صورتحال پیدا کرنے کا سبب بن گئے ہیں ۔ شہر کے مختلف علاقوں جیسے ٹولی چوکی ، مادنا پیٹ ، سنتوش نگر ، بہادر پورہ ، سعید آباد ، ملک پیٹ ، دلسکھ نگر ، مہدی پٹنم ، عطا پور ، بنڈلہ گوڑہ ، کاچی گوڑہ ، کاروان و دیگر مقامات پر تاجرین کو ہراساں و پریشان کیا جارہا ہے ۔ کبھی شرائط کے نام پر تو بھی کوویڈ 19 کے نام پر لا اینڈ آرڈر اور ٹریفک پولیس کی مبینہ ظلم و زیادتی جاری ہے ۔ وزیر داخلہ تلنگانہ محمد محمود علی کے بیان کے بعد مسلمانوں میں عید الاضحی اور قربانی کے تعلق سے اطمینان پیدا ہوگیا تھا ۔ تاہم وزیر داخلہ کا تیقن ایسا لگتا ہے کہ صرف دفتری امور ہی تک محدود ہوگیا جب کہ اعلیٰ اور ان کے ماتحت پولیس عہدیدار اس پر عمل کرنے میں تساہلی کررہے ہیں ۔
حکومت کی جانب سے بڑے جانوروں ( نر ) کی منتقلی میں رکاوٹ پیدا نہ کرنے کے بھی احکامات دئیے گئے لیکن شہر میں بڑے جانوروں ( نر ) کی درآمد غیر یقینی صورتحال کا شکار ہوگئی ہے ۔ باوثوق ذرائع کے مطابق شہر کے اطراف قائم کردہ پولیس کے چیک پوسٹ پہونچنے سے قبل ہی گاڑیوں کو خود ساختہ گاؤ رکھشک روک لیتے ہیں اور انہیں اطلاع بھی ایسے لوگ فراہم کرتے ہیں جہاں سے وہ جانور خرید کر شہر منتقل کرتے ہیں ۔ اس کے علاوہ پولیس کے چیک پوسٹس سے بھی چوکس کرنے کی اطلاعات پائی جاتی ہیں ۔ شہر میں ہر سال کی بہ نسبت اس سال عید الاضحی میں جانوروں کی خرید و فروخت پر کوویڈ 19 کے اثرات بڑی حد تک پائے جاتے ہیں اور پہلے ہی تباہ حال معیشت اور اب مارکٹ کی سست روی بکروں کی منڈی پر اثر انداز ہوئی ہے ۔ شہر کے مذکورہ مقامات جہاں تاجرین کے ساتھ خریداروں کے لیے بھی مشکلات پیش آرہی ہیں ان مقامات پر لاکھوں کی تعداد میں بکرے لائے جاتے تھے ۔ اب ان کی تعداد نصف سے بھی کم ہوگئی ہے ۔ ایسی صورت میں پولیس کی مبینہ ہراسانی شہریوں میں تشویش کا سبب بنی ہوئی ہے ۔ اور شہر میں سوال پیدا ہوا ہے کہ آیا حکومت اب بڑے جانوروں ( نر ) کے علاوہ بکروں کی ذبیحہ میں رکاوٹ تو پیدا کرنا نہیں چاہتی ۔ ایک طرف پر سکون اور اطمینان بخش انداز میں عید منانے کے اقدامات کے دعوے کئے جارہے ہیں تو دوسری طرف رکاوٹوں کا سلسلہ ختم ہی نہیں ہوتا ۔ سیکولر اقتدار کے دعویدار اس حکومت کو چاہئے کہ وہ عید الاضحی کے پر سکون انداز میں انعقاد کے لیے ماحول فراہم کریں اور عوام میں اعتماد کو بحال کریں ۔۔