سری نگر: عید الفطر کے سلسلے میں وادی کشمیر بالخصوص گرمائی دارالحکومت سری نگر کے تمام بازاروں میں اتوار کو گاہکوں کی ایک غیرمعمولی بھیڑ امڈ آئی جن کو صبح سے ہی بیکری دکانوں پر مختلف بیکری و مٹھائی مصنوعات، مٹن کی دکانوں پر گوشت اور دودھ کی دکانوں پر دودھ کے مصنوعات بشمول پنیر کی خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔اس کے علاوہ کریانہ ، پھل، سبزی اور ریڈی میڈ گارمنٹس کی دکانیں پر بھی لوگوں کو بڑی تعداد میں خریداری میں مصروف دیکھا گیا۔ بیشتر بیکری و مٹھائی، مٹن، چکن اور دودھ دہی کی دکانوں پر لوگ قطاروں میں کھڑے ہوکر اپنی باری کا انتظار کرتے ہوئے نظر آئے ۔ اس دوران گاہکوں نے الزام لگایا کہ بازاروں میں گاہکوں کے رش کو دیکھتے ہوئے منافع خوروں کی من مانیاں عروج پر پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مٹن، چکن، پھل اور بیکری فروش گاہکوں سے اپنی مرضی کی قیمتیں وصول رہے ہیں۔گاہکوں نے الزام لگایا کہ عیدالفطر کے پیش نظر بیکری فروشوں نے بیکری مصنوعات کی قیمتوں میں بھاری اضافہ کردیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک سادہ کیک جوایک ماہ قبل 50 روپے میں فروخت کیا جاتا تھا، وہی اب 70 سے 80 روپے میں فروخت کیا جاتا ہے جبکہ سبزی فروشوں نے نرخ نامے بالائے طاق رکھے ہیں۔
کشمیر میں عید الفطر کے موقع پر موسم خوشگوار رہنے کا امکان
سری نگر: محکمہ موسمیات نے وادی کشمیر میں عیدالفطر کی تقریبات کے دوران خشک و خوشگوار موسم کی پیش گوئی کی ہے ۔متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں 30 اور 31 مارچ کو موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں یکم اپریل سے 7 اپریل تک بھی موسم مجموعی طور پر خشک رہ سکتا ہے تاہم اس دوران 3 اپریل کو بعد دوپہر مطلع ابر آلود رہنے کی توقع ہے ۔محکمے نے اپنی ایڈوائزری میں مسافروں، سیاحوں اور ٹرانسپورٹروں سے کہا ہے کہ وہ ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کریں۔انہوں نے کسانوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کھیت کھلیانوں اور باغوں میں سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔موصوف ترجمان نے بتایا کہ جموں وکشمیر کے بیشتر علاقوں میں شبانہ درجہ حرارت 1 سے 6 ڈگری سینٹی گریڈ معمول سے کم ریکارڈ ہوا ہے ۔