وقف بورڈ کے احکامات، ہر مسجد میں صرف 50 مصلیوں کی گنجائش، دو مرتبہ نماز کی ادائیگی کا مشورہ
حیدرآباد: تلنگانہ وقف بورڈ نے اعلان کیا ہے کہ ریاست کی عیدگاہوں میں نماز عید کی اجازت نہیں رہے گی کیونکہ بڑے پیمانہ پر اجتماع کی صورت میں کورونا وائرس پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ وقف بورڈ کی جانب سے آج بقرعید کے سلسلہ میں رہنمایانہ خطوط جاری کئے گئے جس میں عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے مکانات میں نماز عید ادا کریں۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی جانب سے جاری کردہ گائیڈ لائنس کے مطابق مساجد میں صرف 50 مصلیوں کے ساتھ نماز کی ادائیگی کی اجازت رہے گی۔ مصلیوں کے درمیان دو میٹر کا فاصلہ ہونا چاہئے ۔ اگر مصلیوں کی تعداد زیادہ ہے تو دو مرحلوں میں نماز عید ادا کی جائے ۔ ہر مصلی باوضو اور اپنی جانماز کے ساتھ مسجد پہنچے۔ مساجد کمیٹیوں کو ہدایت دی گئی کہ وہ مساجد کے باب الداخلہ اور اندرون حصہ میں سینیٹائز کریں۔ مصلیوں کے ہاتھ صابن یا سینیٹائزر سے صاف کئے جائیں ۔ امام اور خطیب سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ مختصر خطبۂ عید دیں۔ سینئر سٹیزن اور بچوں کو مساجد آنے سے گریز کرنا چاہئے ۔ خاص طور پر ایسے افراد جو کھانسی ، بخار اور سردی میں مبتلا ہوں۔ شوگر ، ہائی بی پی اور دیگر مریض مکانات میں نماز ادا کریں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا کہ وہ جانوروںکی خریدی کیلئے کھلے مقامات جانے سے گریز کریں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں ضلع حکام کی جانب سے بھیڑ بکریوں کی فروخت کا انتظام کیا گیا ہے ۔ جانوروںکی قربانی کھلے مقامات اور سڑکوں پر نہ کی جائے۔ یکم تا 3 اگست مسالخ کو کھلا رکھا جائے تاکہ عوام تین دن ہجوم کے بغیر جانوروں کو ذبح کرسکیں۔ بڑے جانوروں کی قربانی مسالخ تک محدود رہنی چاہئے ۔ عوام سے اپیل کی گئی کہ وہ قربانی و نماز کے موقع پر احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ گوشت کی کٹوائی کے موقع پر قصابوں کو صفائی کا بطور خاص خیال رکھنا چاہئے ۔