غربت کی انتہا جوان بیٹے کی نعش ٹھیلہ بنڈی پرمنتقل

   

سنگدل نظام اور بوڑھے والدین کے آنسو ، ضلع کریم نگر میں دل دہلادینے والا منظر
حیدرآباد : 4 مئی ( سیاست نیوز) ضلع کریم نگر کے شنکر پٹنم منڈل سے ایک ایسی تصویر سامنے آئی ہے جس نے انسانیت کا سرشرم سے جھکا دیا اور ہر دیکھنے والے کی روح تڑپ اُٹھی ۔ جہاں ایک طرف دنیا ترقی کے دعوے کررہی ہے وہیں دوسری جانب ایک مجبور باپ اور بے بس ماں کو اپنے جواب بیٹے کا جنازہ اُسی ٹھیلے پر لے جانا پڑا جس پر وہ دن بھر پھل فروخت کرتے ہوئے اس کی زندگی کی دعائیں مانگتے تھے ۔ کیسوا پٹنم گاؤں کے بوڑھے والدین ویرایا اور روکماں جو سڑک کنارے پھل فروخت کرتے ہوئے اپنا گزربسر کرتے تھے ان کا 38 سالہ بیٹی یعقوب گزشتہ کچھ عرصہ سے شدید بیمار تھا ۔ اتوار کی شام جب یعقوب کی حالات بگڑی تو بوڑھے والدین اسے مین روڈ پر واقع ایک شیڈ میں لائے اور مدد کیلئے 108 ایمبولنس کو کال کیا ۔ 108 ایمبولنس آئی تو صحیح لیکن جیسے ہی عملہ نے دیکھا کہ یعقوم دم توڑ چکا ہے انہوں نے ضابطہ کا حوالہ دیتے ہوئے نعش کو منتقل کرنے سے انکار کرتے ہوئے واپس چلے گئے ۔ بے یار و مددگار والدین نے بیٹے کی نعش گھر لے جانے کیلئے کافی بھاگ دوڑ کی لیکن جب کوئی راستہ نظر نہیں آیا تو انہوں نے نم آنکھوں کے ساتھ اپنے جواں سال بیٹے کی نعش کو اسی پھلوں کے ٹھیلے پر رکھا اور اسے ڈھکیلتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوئے ، کیونکہ بیٹے کی نعش گھر لے جانے کیلئے ان کے پاس نہ پیسے تھے اور نہ کوئی ہمدرد تھا ۔ دنیا دیکھتی رہی اور وہ بوڑھی ماں اپنے آنسوؤں سے بیٹے کا چہرہ دھوتی رہی ۔ یہ صرف ایک نعش نہیں تھی بلکہ اس نظام پر ایک بڑا سوالیہ نشان تھا جو غریب کو جیتے جی دوا اور مرنے کے بعد ایک ایمبولنس فراہم نہ کرسکا ۔ اس دلخراش منظر نے وہاں موجود ہر شخص کی آنکھیں نم کردی ۔ سوشل میڈیا اور مقامی حلقوں میں اس واقعہ پر گہرے دکھ کا اظہار کیا جارہاہے اور غریب طبقہ کیلئے طبی و سماجی سہولیات کی عدم دستیابی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں ۔ 2/m/b