حیدرآباد۔/23جنوری، ( سیاست نیوز) بی جے پی کے سابق رکن اسمبلی رگھونندن راؤ نے الزام عائد کیا کہ بی آر ایس قائدین کے غرور اور تکبر کے نتیجہ میں عوام ان سے دور ہوگئے اور پارٹی کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے رگھونندن راؤ نے کہا کہ بی آر ایس قائدین کے ٹی آر اور ہریش راؤ کو شہیدان تلنگانہ کے پسماندگان سے معذرت خواہی کرنی چاہیئے۔ 10سالہ دور اقتدار میں شہیدان تلنگانہ اور ان کے افراد خاندان کی خدمات کا کوئی اعتراف نہیں کیا گیا۔ کے سی آر نے شہیدان تلنگانہ کے خاندانوں کی مدد کا وعدہ کیا تھا جو پورا نہیں ہوا۔ رگھونندن راؤ نے کہا کہ لوک سبھا انتخابات تلنگانہ تحریک میں حصہ لینے والوں کو ٹکٹ دینے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن اس کے کوئی امکانات دکھائی نہیں دیتے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی چناؤ میں بی آر ایس نے سریکانت چاری کی والدہ شنکراماں کو سیاسی فائدہ کیلئے استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست کی تشکیل کے بعد کئی اعلیٰ عہدیداروں نے ہزاروں کروڑ کی بے قاعدگیاں کی ہیں۔ الیکشن میں ٹکٹوں کی فروخت کے ذریعہ رقم حاصل کرنا بی آر ایس کی پالیسی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس اور بی جے پی دونوں نظریاتی پارٹیاں ہیں اور لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی تنہا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ بی آر ایس قائدین اپنے غرور اور تکبر کے نتیجہ میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں۔ رگھونندن راؤ نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا چناؤ میں بی جے پی کا تلنگانہ میں شاندار مظاہرہ رہے گا اور زائد نشستوں پر کامیابی یقینی ہے۔1